30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبھی اِظہارِ رَنج نہ کیا۔ گھر کے سارے کام کاج آپ خود کیا کرتی تھیں پھر کچھ عرصہ بعد حضرت ابوبکر صِدِّیق رضی اللہ عنہ نے کام کاج کے لئے آپ کو ایک خادِم عطا فرمایا جس سے آپ کا بوجھ کم ہوگیا۔(1)
عشقِ مصطفےٰ
عشقِ مصطفےٰآپ کو اپنے والد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ورثے میں ملا تھا۔ ہجرت کے موقع پر جب پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے عاشقِ صادق حضرت صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینۂ مُنَورہ کی جانب ہجرت کے لیے روانہ ہو رہے تھے تو اس موقع پر اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ اور آپ رضی اللہ عنہما نے ہی زادِ سفر تیار کرنے کی خدمت سر انجام دی تھیں، جب سامان باندھنے کے لئے کوئی چیز نہ ملی تو آپ نے اپنے نِطاق ( یعنی کمر بندھ) کے دو ٹکڑے کر کے اس سے سامانِ سفر باندھ دیا، اسی وجہ سے آپ کا لقب”ذَاتُ النّطاقَیْن“ہے۔(2) اور یہی وہ موقع تھا جب پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زبانِ مبارک سے آپ کو جنت کی بشارت ملی ۔نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:اس ایک کمر بندھ کے بدلے جنت میں تجھے دو کمربند عطا کیے جائیں گے۔(3)
سخاوت
سخاوت آپ رضی اللہ عنہا کی سیرت کا نمایاں پہلو تھا ۔ آپ کی سخاوت کا عالَم یہ تھا کہ
1……بخاری، 3/469، حدیث:5224ملخصاً۔
2……بخاری، 2/304، حدیث:2979۔
3……طرح التثریب فی شرح التقریب،7/ 276۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع