30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رضی اللہ عنہا سے رجوع فرمایا۔(1)
اللہ پاک کی راہ میں صدقہ
آپ رضی اللہ عنہا نے اِنتقال سے پہلے اپنا تمام مال اللہ پاک کی راہ میں صدقہ کر دیا تھا اور جائیداد وَقف کر دینے کی وَصیت فرمائی تھی۔(2)
اِنتقال اور تدفین
آپ رضی اللہ عنہا کا اِنتقال حضرتِ امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں 45ہجری شعبانُ المعظم کے مہینے میں مدینۃ المنورہ میں ہوا۔ مَروان بن حکم اس وقت مدینے کا حاکم تھا، اسی نے آپ رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور کچھ دُور تک آپ کے جنازے کو بھی اُٹھایا پھر صحابیٔ رسول حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قبر تک جنازے کو کاندھا دئیے چلتے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کے دو بھائیوں حضرتِ سیِّدُنا عبد الله بن عمر اور حضرتِ سیِّدُنا عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما اور تین بھتیجوں نے آپ کو قبر میں اُتارا۔(3) جنَّتُ البقیع میں دوسری اَزواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے پہلو میں آپ کی تدفین کی گئی۔ وفات کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر 60 یا 63 سال تھی۔(4) اللہ پاک کی آپ پر رَحمت ہو اور آپ کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ امین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
اس بیان کو دیکھنے اور سننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجئے
1……تفسیر در منثور،1/653۔
2……اسد الغابۃ،7/75۔
3……سبل الہدیٰ والرشاد،11/186۔
4……سیرتِ مصطفیٰ، ص664۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع