30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے نِکاح فرمایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حالتِ اِحْرام میں تھے۔ (1)چنانچہ اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوگیا کہ مُحْرِم (یعنی جس نے حج یا عمرے کا اِحْرام باندھا ہو اُس) کو اس حالت میں نِکاح کرنے کی شرعاً اجازت ہے۔
خوفِ خدا
آپ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ خوفِ خدا رکھنے و الی تھیں، اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ہم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والی اور صِلۂ رحمی کرنے والی تھیں۔(2)
وِصالِ پُرملال
51سن ہجری میں آپ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں۔جب مرضِ وفات نے شدّت اِختیار کی تو آپ فرمانے لگیں: مجھے مکہ شریف سے باہر لے جاؤ، کیونکہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھے بتایا ہے کہ میرا اِنتقال مکہ میں نہیں ہو گا۔ چنانچہ جب آپ رضی اللہ عنہا کو مکہ شریف سے باہر مقامِ سَرف میں اس درخت کے پاس لایا گیا جہاں آپ نِکاح کے بعد رُخصت ہو کر آئی تھیں تو اس مقام پر آپ کا اِنتقال ہو گیا۔(3) یہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دورِ حکومت تھا۔ عظیم صحابِیٔ رسول حضرتِ عبد الله بن عبّاس رضی اللہ عنہما نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور پھر قبر میں بھی اُترے۔ (4)
1……بخارى، 1/607، حديث:1837۔
2……طبقات ابن سعد ،8/110۔
3……شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ ،4/423،دلائل النبوۃ للبیہقی، 6/437۔
4……شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ ، 4/424 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع