30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سرکارنے زوجیت میں قبول فرمایا
اس کے مَرنے کے بعد ( آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول فرمایا پھر) پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو اپنی زوجیت میں قبول فرمایا اور آپ سے نِکاح فرمایا۔ نکاح کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر 20 سال تھی۔ اِس اِعتبار سے آپ رضی اللہ عنہا کی وِلادت بعثتِ نبوی سے تقریباً دو سال پہلے 608 عیسوی میں ہوئی۔(1)
پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے نکاح کی بدولت آپ کا شمار جنتی خواتین میں ہو گیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے: اللہ پاک نے مجھےصرف جنتی خاتون سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے۔ (2)
جنَّت کا وعدہ
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زوجہ ہونا تو آپ کی اِضافی فضیلت ہے ورنہ آپ رضی اللہ عنہا کے جنتی ہونے کے لیے آپ کا صحابیہ ہونا بھی کافی ہے کیونکہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صحابہ یا صحابیات میں سے کوئی بھی ایک لمحے کے لیے بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی صحبت کی برکت سے اللہ پاک نے ان سب سے جنَّت کا وعدہ فرما لیا ہے ۔
صحابہ کرام نے آپ کےقبیلےکے غُلام آزاد کر دیئے
پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نِکاح فرمانے کی خبر جب صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کو پہنچی تو انہیں یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ جس قبیلے میں سردارِ دوجہاں
1……سیرتِ حلبیہ،2/380، فیضانِ امہات المؤمنین،ص245۔
2……کنز العمال،جزء:11 ،6 /186،حديث:31936۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع