30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا خطبہ سنا،آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا کہ وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے۔(1)
آپ رضی اللہ عنہا پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زوجۂ مطہرہ اور تمام مؤمنوں کی امی جان ہیں اور اُمُّ المومنین کے فضائل میں یہ حدیثِ پاک کافی ہے کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک نے مجھے صرف جنتی خاتون سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے۔(2)
آپ رضی اللہ عنہا کو ان چھ اَزواجِ مطہرات میں سے ہونے کا شرف بھی حاصِل ہے جن کا تَعَلُّق قبیلہ قریش سے تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے پہلے حبشہ پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ آپ رضی اللہ عنہا کو فقہاء (یعنی شرعی اَحکام وقوانین کی ماہِر) صحابیات میں شمار کیا جاتا ہے۔(3) آپ رضی اللہ عنہا صلحِ حدیبیہ کے موقع پر بیعتِ رضوان میں بھی شریک تھیں اور ان بیعتِ رضوان میں شریک ہونے والے اَفراد کے لیے قرآنِ پاک میں خصوصی فضیلت نازِل ہوئی ہے۔ اللہ پاک قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ
(پ26، الفتح:18)
ترجَمۂ کنزالعرفان :”بیشک اللہ ایمان والوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے تمہاری بیعت کررہے تھے تو اللہ کووہ معلوم تھا جو ان کے دلوں میں تھا تو اس نے ان پر اطمینان اتارا۔‘‘
اور رَسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جن لوگوں نے
1……بخارى،2/510،حدیث:3634۔
2……تاریخ ابن عساکر،69/149،حدیث:13732 ۔
3……سیر اعلام النبلاء ،2/203۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع