30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دھوکا بھی نہ کرنا۔ آپ فرماتی ہیں:ہم نے ان شرائط پر بیعت کی پھرلوٹ آ ئیں۔ وہاں سے لوٹنے کے بعدمیں نے ایک عورت سے کہا: واپس جاؤ اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے پوچھو کہ شوہروں کے بارے میں ہم پر کیا چیز حرام ہے؟اس عورت نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: چوری چھپے (یعنی بغیر اجازت) شوہر کا مال کسی کو نہ دیں۔ (1)
آپ رحم دل اور حُسنِ اخلاق والی تھیں
آپ رضی اللہ عنہا بہت رحم دل اورحُسنِ اخلاق والی تھیں۔ غزوۂ اَحزاب کے بعد جب مسلمانوں نے یہودیوں کے عہد توڑنے کی وجہ سے ان کے قلعے کا محاصرہ کرلیا تھا تو ان یہودیوں میں سے ایک رفاعہ بن سموال قرظی آپ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور آپ سے عرض کی:آپ مجھے پناہ دے دیجیے۔ میں آپ کا یہ اِحسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔آپ کو رفاعہ پر ترس آگیا۔چنانچہ آپ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض کی : یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! رفاعہ کو میں نے پناہ دی آپ اسے قبول فرما لیجیے۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آپ کی درخواست قبول فرما کر رفاعہ کے لئے ضمانت عطا فرمادی۔کچھ عرصے بعد رفاعہ نے دینِ اسلام قبول کرلیا اور آپ رفاعہ سے حضرتِ رفاعہ ہو کر صحابہ کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ حضرت اُمِّ منذر رضی اللہ عنہا کی نیکی اور بھلائی آپ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا سبب بنی جو کہ یقیناً بہت بڑی فضیلت کی بات ہے۔(2)
1……حلیۃ الاولیاء،2/ 127۔
2……سیرت حلبیہ،2/452،الروض الانف ،3/449۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع