30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حسین رضی اللہ عنہما تشریف لائے اور وہ دونوں آپ کی کمر مبارک پر سوار ہوگئے۔ آپ نے سلام پھیرنے کے بعد انہیں اپنے سامنے بٹھالیا۔ پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے دائیں کندھے پر اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے بائیں کندھے پر اُٹھالیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اے لوگو! کیا میں تمہیں ان کے بارے میں خبر نہ دوں جو (اپنے ) نانا،نانی کے اِعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے نہ بتاؤں جو (اپنے) چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو (اپنے) ماموں اور خالہ کے اِعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں خبر نہ دوں جو (اپنے) ماں باپ کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہما )ہیں،ان کے نانا اللہ کے رسول،ان کی نانی خدیجہ بنت خویلد، ان کی والدہ فاطمہ بنتِ رسول اللہ ،ان کے والد علی بن ابی طالب، ان کے چچاجعفر بن ابی طالب، ان کی پھوپھی اُمِّ ہانی بنت ابی طالب، ان کے ماموں قاسم بن رسول اللہ ان کی خالائیں اللہ کے رسول کی بیٹیاں زینب، رُقیہ اور اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہم ہیں۔(پھر آپ نے فرمایا :) ان کے نانا جنتی، ان کے والد جنتی، ان کے چچا جنتی، ان کی پھوپھی جنتی، ماموں جنتی اور ان کی خالائیں جنتی ہیں۔(1) حضرت اُمِّ ہانی رضی اللہ عنہا چونکہ حضراتِ حسنینِ کریمین رضی اللہ عنہما کی پھوپھی ہیں لہٰذا پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا یہ فرمان آپ کے جنتی ہونے کی سند ہے۔
اللہ پاک کی آپ پر رحمت ہو اور آپ کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمین بِجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
اس بیان کو دیکھنے اور سننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجئے
1……معجم کبیر، 3/66، حدیث:2682۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع