30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجھے اور میرا لباس اسے نہ عطا کر دیا جائے ۔ ( یعنی اپنے آپ کو صاحبِ ایمان اور اُسے بے ایمان دیکھ کر یہ خوف لاحِق ہوا کہ کہیں مجھے اِیمان سے محروم کر کے میرا اِیمان اُسے نہ دے دیا جائے ۔ ) )[1] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بے نیازی اور اُس کی خُفیہ تَدبیر سے ہر ایک کو ہر دَم ڈرتے رہنا چاہیے ۔ ہم میں سے کسی کو نہیں معلوم کہ ہمارا خاتِمہ ایمان پر ہو گا یا نہیں ۔ آہ ! ہم دُنیا میں پیدا ہو کر سخت ترین آزمائش میں پڑ گئے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنا خوف نصیب فرمائے اور ہمارے اِیمان کی حفاظت فرمائے ، اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم ۔ )[2] )
کاشکے نہ دنیا میں پیدا مَیں ہُوا ہوتا
قبر و حشر کا ہر غم ختم ہو گیا ہوتا
آہ! سَلبِ اِیماں کا خوف کھائے جاتا ہے
کاشکے مری ماں نے ہی نہیں جنا ہوتا ( وسائلِ بخشش )
دن کام کے لیے اور رات آرام کے لیے
سُوال:مدنی اِنعام نمبر13میں ہے کہ” مسجد محلہ کی عشا کی جماعت کے وقت سے دو گھنٹے کے اندر اندر گھر پہنچ گئے “لیکن بعض اوقات مدنی مشورے کی وجہ سے تاخیر ہو جاتی ہے ایسی صورت میں مدنی اِنعام پر عمل مانا جائے گا یا نہیں؟
جواب: تمام اسلامی بھائی مدنی اِنعام پر عمل کرتے ہوئے بلاتاخیر عشا کی جماعت کے وقت سے دو گھنٹے کے اندر اندر اپنے گھروں میں ضَرور پہنچ جایا کریں ۔ مدنی مشورے کی وجہ سے مدنی اِنعام کو نہ چھوڑا جائے بلکہ جس طرح دِیگر کام دن
میں کیے جاتے ہیں ایسے ہی مدنی مشورے بھی دن میں ہی رکھے جائیں ۔ اگر کاروبار وغیرہ کی مَصرُوفیت ہو تو چھٹی کے دن کسی وقت مشورہ رکھ لیا جائے اور رات جلد گھر پہنچ کر آرام کیا جائے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے رات آرام کے لیے اور دن کام کے لیے بنایا ہے چنانچہ اِرشادِ رَبّ العباد ہے :
وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ( ۷۳ ) ( پ۲۰ ، القصص:۷۳ )
ترجَمۂ کنز الایمان:اور اس نے اپنی مہر ( رحمت ) سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو اور اس لئے کہ تم حق مانو ۔
گھر پہنچ کر بھی ہنسی مذاق اور فضول گفتگو وغیرہ کرنے کے بجائے جلد آرام کرنے کی ترکیب بنائیں تاکہ نمازِ تہجد ، صَدائے مدینہ اور نمازِ فجر باجماعت مسجد میں ادا کرنے کی سعادت نصیب ہو ۔ صَدرُالشَّریعہ ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: بعد نمازِ عشاء باتیں کرنے کی تین صورتیں ہیں:اوّل:علمی گفتگو ، کسی سے مسئلہ پوچھنا یا اس کا جواب دینا یا اس کی تحقیق و تفتیش کرنا اس قسم کی گفتگو سونے سے افضل ہے ۔
دُوُم: جھوٹے قصے کہانی کہنا ، مسخرہ پن اور ہنسی مذاق کی باتیں کرنا یہ مکروہ ہے ۔ سِوُم:مُؤانَسَت ( باہمی اُنس ) کی بات چیت کرنا جیسے میاں بیوی میں یا مہمان سے اس کے اُنس کے لیے کلام کرنا یہ جائز ہے ۔ اس قسم کی باتیں کرے تو آخر میں ذِکرِ الٰہی میں مَشغُول ہو جائے اور تسبیح و اِستغفار پر کلام کا خاتمہ ہونا چاہیے ۔ )[3] )
سُوال: مذکورہ آیتِ مبارکہ میں رات میں آرام کرنے کی ترغیب ہے جبکہ کئی بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن رات میں آرام کرنے کے بجائے ساری رات عبادت میں گزار دیتے تھے برائے کرم! اس کی وضاحت فرما دیجیے ۔
[2] مزید معلومات کے لیے شیخِ طریقت ، اَمیر اہلسنَّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا V.C.D بیان”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر“دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ سے ہدیۃً حاصِل فرما کر سماعت فرمائیے ۔ ( شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ )
[3] بہارِشریعت ، ٣ / ۴۳۶ ، حِصّہ : ۱۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع