30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی عَنْہُ کے نام کے ساتھ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اِستعمال کرنے میں حِکمت یہ ہے کہ آپ نے کبھی بھی بُت کو سجدہ نہیں کیا تو اس لحاظ سے آپ کے چہرے کی تعظیم و تکریم کے حال کے یہی مُناسِب ہے کہ آپ کو اِسی طرح پکارا جا ئے ۔ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم میں”وَجْهٌ“ سے حقیقی چہرہ مُراد ہے یا پھر ”ذات“ مُراد ہے ۔ اس صورت میں معنیٰ یہ ہو گا کہ ”آپ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی ذات الله عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرنے اور الله عَزَّوَجَلَّ کے عِلاوہ کسی اور جانِب مُتَوجِّہ ہونے ( یعنی توجہ کرنے ) سے محفوظ ہے ۔ “ ( [1] )
اس نے لقبِ خاک شہنشاہ سے پایا
جو حیدر کرار کہ مولیٰ ہے ہمارا ( حدائقِ بخشش )
بَدمذہبوں سے بچوں کو پڑھانے کا حکم
سُوال:بَدمذہبوں کے پاس اپنے بچوں کو تعلیم دِلوانا کیسا ہے ؟
جواب:بَدمذہبوں سے بچوں کو تعلیم دِلوانا حرام ہے ۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں:بدمذہبوں سے بچوں کو پڑھانا حرام ، حرام اور حرام ہے اور جو ایسا کرے وہ بچوں کا بُرا چاہنے والا اور گناہوں میں مبتلا ہونے والا ہے ۔ ( [2] )حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن سِیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْمُبِیْن فرماتے ہیں: بیشک یہ علم دِین ہے پس تم دیکھو کہ اپنا دِین کس سے حاصِل کرتے ہو ۔ ( [3] ) حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن سِیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْمُبِیْن کی خِدمت میں دو بدعقیدہ آدَمی حاضِر ہوئے اور کہنے لگے :اے ابوبکر ! ہم آپ کو ایک حدیث سُناتے ہیں ۔ فرمایا : میں نہیں سُنوں گا ۔ دونوں نے کہا:اچّھا چلیے ، قرآنِ کریم کی ایک آیت ہی سُن لیجئے ، فرمایا:نہیں سُنوں گا ۔ تم دونوں میرے پاس سے چلے جاؤ وَرنہ میں اُٹھ کر چلا جاتا ہوں ۔ آخر وہ چلے گئے تو بعض لوگوں نے ( حیرت سے )عرض کی:اے ابوبکر! آپ اگر ان سے آیتِ قرآنی سُن لیتے تو اس میں آخر کیا حَرج تھا؟ فرمایا :مجھے یہ خوف لاحِق ہوا کہ یہ لوگ قرآن کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے ( تو ہلاک ہو جاؤں اس لیے میں نے ان سے قرآن و حدیث سننا گوارا نہ کیا ) ۔ ( [4] )
مذکورہ رِوایت و حِکایت سے ان لوگوں کو دَرسِ عِبرت حاصِل کرنا چاہیے جو اپنے بچوں کو بَدمذہبوں سے تعلیم دِلواتے ، ان کی کتابیں پڑھتے اور تقریریں سُنتے ہیں اور خُوش فہمی میں خود کو بَہُت پکّا عاشقِ رسول تَصَوُّر کرتے اور یہ کہتے سُنائی دیتے ہیں کہ سُنو سب کی کرو مَن کی وغیرہ وغیرہ ۔ اگر ایسا ہوتا تو مسلمانوں کے جلیلُ القَدر امام اور عظیم عالمِ دِین حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بِن سِیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْمُبِیْن نے یہ کیوں اِرشاد فرمایا کہ ”یہ عِلم دِین ہے پس تم دیکھو کہ اپنا دِین کس سے حاصِل کرتے ہو ۔ “اور خود انہوں نے بَدعقیدہ آدمیوں سے قرآن و حدیث کو کیوں نہیں سُنا! بس یوں سمجھو کہ انہوں نے ان سے نہ سُن کر گویا ہم جیسوں کو سمجھایا ہے کہ میں بھی نہیں سُنتا تم بھی مت سُنو کہ شیطان کو بہکاتے دیر نہیں لگتی لہٰذا ایسے معاملات میں خود پر اِعتماد کر کے غیر محتاط ہو جانا یقیناً دانشمندی نہیں ۔ حضرتِ سَیِّدُنا عمران بِن حُصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا: جو دَجّال کو سُنے وہ اس سے دُور رہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! کوئی شخص اس کے پاس جائے گا یہ سمجھ کر کہ میں مسلمان ہوں تو پھر اس کی اِتباع کرلے گا ان شُبہات کی وجہ سے جن کے ساتھ وہ بھیجا گیا ۔ )[5] )
مُفَسِّرِ شَہِیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیثِ پاک کے اس حصے ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! کوئی شخص اس کے پاس جائے گا یہ سمجھ کر کہ میں مسلمان ہوں “ کے تحت فرماتے ہیں: یعنی وہ یہ سمجھے گا کہ میں پختہ مسلمان ہوں مجھے دَجّال اور اس کے شعبدے اِسلام سے ہٹا نہیں سکتے اپنی اس مَوہُومَہ پختگی( یعنی پختہ ہونے کے وہم ) کے دھوکے میں مارا جائے گا ۔ آج بھی بعض لوگ اپنے ایمان کو ناقابلِ تسخیر قلعہ سمجھ کر بدمذہبوں کی صحبت ، ان کے وَعظ ، ان کی کُتُب کا مُطالَعہ اِختیار کرتے ہیں اور بے دِین بن جاتے ہیں ۔ )[6] )
[1] فتاوىٰ حديثيه ، ص ۸۰ دار احياء التراث العربی بيروت
[2] فتاویٰ رضویہ ، ۲۳ / ۶۸۲ ملخصاً
[3] مسلم ، المقدمة ، باب بیان أن الاسنادمن الدین ...الخ ، ص۱۹ دار الکتاب العربی بیروت
[4] دارمی ، باب اجتناب أهل الأهواء والبدع والخصومة ، ۱ / ۱۲۰ ، حدیث : ۳۹۷ دار الکتاب العربی بیروت
[5] ابوداود ، کتاب الملاحم ، باب ذکر خروج الدجال ، ۴ / ۱۵۷ ، حدیث : ۴۳۱۹ دار احیاء التراث العربی بیروت
[6] مراٰۃ المناجیح ، ۷ / ۳۱۶ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع