30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ میں قبلے کی طرف مُنہ کر کے دُعا مانگوں یا رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف مُنہ کر کے ؟حضرتِ سَیِّدُناامام مالِک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْخَالِق نے فرمایا:تم اپنا چہرہ رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے کیوں پھیرتے ہو حالانکہ وہ قیامت کے دن بارگاہِ خُداوندی میں تمہارا اور تمہارے جَدِّ اَمجد حضرتِ سَیِّدُناآدمعَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بھی وسیلہ ہیں تم سرکارِ ابدِقرار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف ہی مُنہ کر کے شفاعت کی بھیک مانگو ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی شفاعت ضَرور قبول فرمائے گا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ خود ہی اِرشاد فرماتا ہے :
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا( ۶۴ ) ( پ۵ ، النسآء:۶۴ )
ترجمهٔ كنز الايمان :اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللّٰہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضَرور اللّٰہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔ ( [1] )
مجرم بُلائے آئے ہیں جَآءُوۡکَ ہے گواہ
پھر رَد ہو کب یہ شان کریموں کے دَر کی ہے ( حدائقِ بخشش )
سُوال:اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے اس شعر کی تشریح فرما دیجیے ۔
جلی جلی بُو سے اس کی پیدا ہے سوزش عشق چشم والا
کبابِ آہُو میں بھی نہ پایا مَزا جو دل کے کباب میں ہے ( حدائقِ بخشش )
جواب:یہ سارا شعر مُحاوَرات پر مشتمل ہے ۔ ا س کے پہلے مِصرے میں لفظ ”جلی جلی بُو“سے مُراد وہ بُو ہے جو کسی چیز کے جلنے سے پیدا ہوتی ہے ۔ ”سوزش عشق“سے مُراد عشق میں جلنا یا پگھلنا ، ” چشم والا“سے مُراد بُلندی یا ذِی عزّت والی آنکھ ہے ۔ دُوسرے مِصرے میں ”آہُو“سے مُراد ہرن اور ” کبابِ آہُو“سے مُراد ہرن کے گوشت کا کباب ہے ۔
اِس شعر کا بامُحاوَرَہ معنیٰ یہ ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال ، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عشق اور جُدائی کی آگ میں دِل کے جلنے سے جو ہلکی ہلکی بُو پیدا ہوتی ہے وہ ہرن کے گوشت کے کباب سے کہاں حاصل ہو سکتی ہے یعنی عشقِ رسول میں جلنے والے دِل کا کباب ، دُنیا کے لذیذ تر ین ہرن کے کباب سے بھی زیا د ہ لذیذ ہے ۔
سُوال: بکرے کی کھال پر بیٹھنا کیسا ہے ؟
جواب:بكرے کی کھال پر بیٹھنے سے عاجزی و اِنکساری پیدا ہوتی ہے جبکہ چیتے وغیرہ کی کھال پر بیٹھنے سے تَکَبُّر پیدا ہوتا ہے جیسا کہ صَدرُ الشَّریعہ ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد اَمجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:دَرندے کی کھال اگرچہ پکا ( یعنی سکھا )لی گئی ہو نہ اس پر بیٹھنا چاہیے ، نہ نماز پڑھنی چاہیے کہ مِزاج میں سختی اور تَکَبُّر پیدا ہوتا ہے ۔ بکری اور مینڈھے کی کھال پر بیٹھنے اور پہننے سے مِزاج میں نَرمی اور اِنکسار پیدا ہوتا ہے ۔ ( [2] )
”کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم“لکھنے کی وجہ
سُوال:ہرصحابی کے نام کے ساتھرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ لکھا اور بولا جاتا ہے جبکہ حضرتِ سَیِّدُنا عَلِیُّ المرتَضیٰ ، شیرِخُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے نامِ مُبارَک کے ساتھ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْملکھا اور بولا جاتا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب:اَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا عَلِیُّ المرتضیٰ ، شیرِخُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کاظہورِ اِسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت میں بھی کسی بُت کے آگے سر نہیں جُھکا اس لیے آپ کے نام کے ساتھکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم لکھا اور پڑھا جاتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کے کرامت والے چہرے کو مَزید عظمتیں بخشے ۔ “حضرتِ سَیِّدُنا اِمام اَحمد بن حَجَر مکی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی فرماتے ہیں:حضرتِ سَیِّدُنا عَلِیُّ المرتضیٰ ، شیرِخُداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم وَ رَضِیَ اللّٰہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع