30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(3) حضرت ِسیدنا ابووائل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رحمت ِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ابن آدم کی اکثر خطائیں اس کی زبان سے سرزد ہوتی ہیں ۔‘‘
(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم : ۳۳، ج۳، ص۳۴۲)
(4) منقول ہے کہ جب زبان جسم کے دیگر اعضاء سے پوچھتی ہے کہ : ’’تمہارا کیا حال ہے؟‘‘تو اعضاء جواب دیتے ہیں : ’’ہم خیریت سے ہیں اگر تُو ہمیں چھوڑے رکھے۔‘‘ (المستطرف فی کل فن مستظرف ، الباب الثالث عشر ، ج۱، ص ۱۴۷)
(5) حضرت ِ سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! زمین پر زبان سے زیادہ قیدی بنانے کے لائق کوئی شے نہیں ۔‘‘ (الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم : ۱۳، ج۳، ص۳۳۷)
(6) اکابرین فرماتے ہیں کہ ’’زبان ایک درندے کی مانند ہے اگر تم اسے باندھ کر نہیں رکھو گے تو یہ تمہاری دشمن بن جائے گی اور تمہیں نقصان پہنچائے گی۔‘‘ (المستطرف فی کل فن مستظرف ، الباب الثالث عشر، ج۱ ، ص ۱۴۶)
پیارے اسلامی بھائیو!
نتائج سے بے پرواہ ہوکر بلا تکان بولتے چلے جانا آج ہماری عادت بن چکا ہے مگر یادرکھئے کہ ہماری زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ نوٹ کیا جارہا ہے ، جیسا کہ قرآن مجید فرقانِ حمید میں ہے :
مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ
ترجمۂ کنزالایمان : کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔ (پ ۲۶، قٓ : ۱۸ )
اور میدانِ محشر کے وحشت ناک ماحول میں ہمیں اس تحریر شدہ نامۂ اعمال کو پڑھ کر سنانا پڑے گا ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :
وَ نُخْرِ جُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا(۱۳) اِقْرَاْ كِتٰبَكَؕ-كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ
ترجمۂ کنزالایمان : اور اس کے لئے قیامت کے دن ایک نوشتہ(یعنی نامۂ اعمال) نکالیں گے جسے کھلا ہوا پائے گا ، فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ پڑھ آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے ۔‘‘
(پ۱۵، بنی اسرائیل : ۱۳، ۱۴)
پیارے اسلامی بھائیو!ذراتصور تو کیجئے کہ میدانِ محشر کی خوفناک فضاء میں کہ جب پیاس کی شدت سے دم نکلا جارہا ہو، بھوک سے کمر ٹوٹ رہی ہو ، جہنم کی ہولناک سزاؤں کا سوچ کر کلیجہ منہ کو آرہا ہوپھر وہاں ہمارے متعلقین بھی موجود ہوں تو مُغَلَّظات وفضولیات سے بھر پور نامۂ اعمال کو پڑھناکتنا دُشوار کام ہے؟…
لہذا!میدانِ محشر میں اس ممکنہ پریشانی سے بچنے کے لئے ہمیں اپنی زبان کی حفاظت سے ذرّہ برابر بھی غفلت نہیں کرنی چاہئے ۔ہمارے اکابرین نے بھی ہمیں یہی تلقین فرمائی ہے ، چنانچہ
(۱) حضرت ِ سیدناابوجحیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول ِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا : ’’اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کونسا ہے؟‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی جواب نہیں دیا اورخاموش رہے ۔ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خود ہی ارشاد فرمایا : ’’زبان کی حفاظت۔ ‘‘(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب وغیرہ، رقم : ۱۰، ج۳، ص۳۳۶)
(۲) حضرتِ سیدناابو موسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : ’’یارسول اللہ ! سب سے افضل مسلمان کون ہے؟ ‘‘فرمایا : ’’ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔‘‘(بخاری، کتاب الایمان ، باب ای الاسلام افضل ، رقم ۱۱ ، ج۱ ، ص ۱۶)
(۳) حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مسعو د رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگا ہ میں عرض کی : ’’ یارسول اللہ ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ ‘‘ ارشادفرمایا : ’’والدین کے ساتھ حسن ِ سلوک کرنا۔‘‘میں نے عرض کی : ’’پھر کون سا ؟‘‘ فرمایا، ’’ وقت پر نماز پڑھنا ۔‘‘میں نے عرض کی : ’’پھر کون سا؟ ‘‘فرمایا : ’’ تمہاری زبان
سے مسلمانوں کا محفوظ رہنا۔‘‘(طبرانی کبیر، مسند ابن مسعود، رقم ۹۸۰۲، ج۱۰ ، ص ۱۹)
(۴) حضرتِ سیدنا حا رث بن بشا م رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے عر ض کیا : ’’یا رسول اللہ ! مجھے کوئی عمل بتائیے جسے میں اپنے آپ پر لازم کرلوں ۔‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : ’’ اس پر قابو پالو۔‘‘(طبرانی کبیر، مسند حا رث بن ہشام، رقم : ۳۳۴۹ ، ج۳ ، ص ۲۶۰)
(۵) حضرت ِ سیدنا سفیان بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہِ اقدس میں عرض کی : ’’ یارسول اللہ ! مجھے ایسا کام بتائیں جو میرے لئے ذریعۂ نجات بن جائے؟‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’کہو ، میر ارب اللہ ہے اورپھر اس پر استقامت اختیار کرو۔ ‘‘میں نے عرض کی ، ’’ آپ سب سے زیادہ مجھ پر کس چیز کا خوف کرتے ہیں ؟‘‘ آپ نے اپنی زبان اقدس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : ’’اس کا ۔‘‘ (ترمذی ، کتاب الزھد ، رقم : ۲۴۱۸، ج۴، ص۱۸۴)
(۶) حضرتِ سیدنا عُقْبَہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں میں نے عرض کی : ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نجات کیا ہے ؟ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’ اپنی زبان اپنے قابو میں رکھو، تمہارا گھر تمہیں کِفایت کرے (یعنی بِلا ضَرورت گھر سے نہ نکلو) اور اپنے گناہ پر رولیا کرو ۔‘‘( ترمذی، کتاب الزھد ، باب حفظ اللسان ، رقم : ۲۴۱۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع