دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jannat Ki 2 Chabiyan | جنت کی دو چابیاں۔

book_icon
جنت کی دو چابیاں۔

بشارت عطافرمائی ہے ۔ اسی نوعیت کی ایک بشارت دیتے ہوئے مدنی آقا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :

        ’’جومجھے دونوں جبڑوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیزکی حفاظت کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔‘‘(بخاری ، کتاب الرقاق ، باب حفظ اللسان ، رقم : ۶۴۷۴، ج۴، ص۲۴۰)

 وضاحت :

        امام حافظ شہاب الدین علیہ الرحمۃ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :

        ’’دوجبڑوں کے درمیان والی چیز سے مراد زبان اور ٹانگوں کے درمیان والی شے سے مراد شرم گاہ ہے ۔اور حفاظت کی ضمانت دینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان انہیں رب  تَعَالٰی کی نافرمانی والے کاموں سے بچانے کا پختہ عہد کرے مثلاًزبان سے وہی کلام کرے جو ضروری ہو اور بے کار باتوں سے بچے، اسی طرح شرم گاہ کو حلال جگہ استعمال کرے اور اسے حرام میں مبتلاء ہونے سے بچائے ۔سیدناابن بطال علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کے لئے دنیا کی سب سے بڑی آزمائش اس کی زبان اور شرم گاہ ہے۔لہذا! جو اِن دونوں کے شر سے بچنے میں کامیاب ہوگیا وہ بہت بڑے شر سے بچ گیا ۔‘‘ (فتح الباری، کتاب الرقاق ، ج۱۲، ص۲۶۳)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کے نتیجے میں دُخول ِجنت کی بشارت دیگر احادیث میں بھی دی گئی ہے ، چنانچہ …   

 (1) حضرتِ سیدناابو ہریر ہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جس شخص کو اللہ   عَزَّوَجَلَّ دو جبڑوں کے درمیان والی چیزیعنی زبان اور دو ٹا نگو ں کے درمیان والی چیز یعنی شرم گاہ کے شر سے بچا لے ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘(ترمذی ، کتاب الزھد ، باب حفظ اللسان ، رقم ۲۴۱۷ ، ج۴ ، ص ۱۸۴)

(2) حضرتِ سیدنا ابو موسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’جس نے اپنے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز یعنی زبان اور دو ٹا نگو ں کے درمیان والی چیزیعنی شرم گاہ کی حفاظت کی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘(طبرانی کبیر ، مسند ابو را فع ، رقم ۹۱۹ ، ج۱ ، ص ۳۱۱)

 (3) حضرت ِ سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   سے عمل کے بارے میں سوال کیاگیاجو لوگوں کوکثرت سے جنت میں داخل کرے گا تو آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  سے ڈرنا اور حسن اخلاق۔‘‘ پھر رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے کثرت سے جہنم میں داخل کرنے والی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایاکہ’’ منہ اور شرم گاہ۔‘‘(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، باب حسن الخلق ، رقم ۴۷۶ ، ج۱ ، ص ۳۴۹)

 (4) حضرت ِ سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ’’کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیزیں لوگوں کو کثرت سے جنت میں داخل کریں گی؟وہ اللہ  تَعَالٰی سے ڈرنا اور خوش اخلاقی ہے، اور کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیزیں لوگوں کو کثرت سے جہنم میں داخل کریں گی؟وہ منہ(یعنی زبان)اور شرمگاہ ہیں ۔‘‘

(ابن ماجہ، کتاب الزھد، رقم۴۲۴۶، ج۴، ص۴۸۹)   

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

            میٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی جانب سے دی گئی جنت کی ضمانت کا حق دار بننے کے لئے ہمیں اپنی زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کی ضمانت دینا ہوگی اور یہ ضمانت فراہم کرنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں اس پہلو پر غور کرنا ہوگا کہ فی الوقت ہمارے ان اعضاء کی کیا حالت ہے ؟ کیا ہماری زبان اور شرم گاہ ارتکابِ گناہ سے محفوظ ہیں یا نہیں ؟ اگر جواب ہاں میں آئے تو بارگاہِ الٰہی  عَزَّوَجَلَّ  میں شکر بجا لانے کے ساتھ ساتھ دعائے استقامت بھی کیجئے اور اگر خدانخواستہ جواب نفی میں آئے تو بعد ِ توبہ اعضائے مذکورہ کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہوجائیے ۔اوریہ اسی وقت ممکن ہے جب ہمیں یہ علم ہو کہ کس مقام پر زبان کا استعمال باعث ِ ہلاکت ہے اور کب انسان شرم گاہ کی وجہ سے گرفتارِ عصیاں ہوتاہے؟ آنے والی سطور میں اسی سوال کا جواب مہیا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، جن میں پہلے زبان کے استعمال سے متعلق تفصیل مذکورہے اور اس کے بعد شرم گاہ کے گناہوں سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں ہیں ۔

انسانی بدن میں زبان کی اہمیت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

                اس میں کوئی شک نہیں کہ زبان اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے ۔ اس زبان کے ذریعے نیکیاں بھی کمائی جاسکتی ہیں اور یہی زبان ہمیں جہنم کی گہرائیوں میں بھی پہنچا سکتی ہے ۔ افسوس!فی زمانہ زبان کی حفاظت کا تصور تقریباً مفقود ہوچکا ہے ، ہمیں اس چیز کا احساس ہی نہیں ہے کہ گوشت کا یہ چھوٹا ساٹکڑا جو دوہونٹوں اور دوجبڑوں کے پہرے میں ہے ، کس طرح ہمارے پورے وجود کو دنیوی واُخروی مصائب میں مبتلاء کروا سکتا ہے ۔ جیساکہ…

 (1)  حضرت ِ سیدنابلال بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان ہے کہ’’بندہ زبان سے بھلائی کاایک کلمہ نکالتاہے حالانکہ وہ اس کی قدروقیمت نہیں جانتاتو اس کے باعث اللہ   عَزَّوَجَلَّ  قیامت تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے ، اور بیشک ایک بندہ اپنی زبان سے ایک برا کلمہ نکالتا ہے اوروہ اس کی حقیقت نہیں جانتاتو اللہ   عَزَّوَجَلَّ  اس کی بناء پراس کے لئے قیامت تک کی اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔‘‘(ترمذی، کتاب الزھد، باب فی قلۃ الکلام، ج۴، ص۱۴۳)

 (2)  حضرت ِسیدناابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’جب آدمی صبح کرتا ہے تو اس کے جسم کے تمام اعضاء زبان سے کہتے ہیں : ’’ اے زبان ! تو ہمارے معاملے میں اللہ  سے ڈر کیونکہ ہم تیرے ساتھ اورتابع ہیں اگر توسیدھی رہی تو ہم سیدھے رہیں گے اور اگر ٹیٹرھی ہوئی توہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے ۔‘‘

(ترمذی ، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی حفظ اللسان ، رقم : ۲۴۱۵، ج۴، ص ۱۸۳ )

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن