30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی سفیدی اوراس کی انگوٹھیاں زمین وآسمان کے درمیان لٹکا دی جائیں تو اس کی وجہ سے زمین اس طرح روشن ہوجائے جس طرح سورج دنیا والوں کے لیے روشن ہوتاہے۔‘‘ پھر فرمایا : ’’ یہ تو میں نے اسکے ہاتھ کا تذکرہ کیا ہے اسکے چہرے کی سفیدی اورحسن وجمال اوراسکے تاج کے یاقُو ت وزبرجد کے حسن کاکیاعالم ہوگا ۔ ‘‘(التر غیب والتر ھیب ، کتاب صفۃ الجنۃ ، رقم ۱۰۰ ، ج۴ ، ص ۲۹۹ )
جنت میں دودھ ، پانی اور شراب کی نہریں ہوں گی ، جیساکہ سورۂ محمد میں ارشاد ہوتا ہے ،
مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَؕ-فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍۚ-وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗۚ-وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ ﳛ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّىؕ-وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ
ترجمہ کنزالایمان : احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیز گاروں سے ہے اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جوکبھی نہ بگڑے اور ایسے دودھ کی نہر یں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جسکے پینے میں لذت ہے اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا۔ اور ان کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں ۔(پ ۲۶ ، سورۂ محمد : ۱۵ )
جنت میں دیدارِالٰہی عَزَّوَجَلَّ :
حضرت ِ سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی کے نزدیک سب سے بڑے مرتبہ کا جنتی وہ شخص ہو گا جو صبح و شام دیدار الٰہی سے مشرف ہو گا اس کے بعد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی :
وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ(۲۲) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ
ترجمہ کنزالایمان : کچھ منہ اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے ۔‘‘ ( پ ۲۹، القیٰمۃ : ۲۲، ۲۳)
(ترمذی ، کتاب صفۃ الجنۃ ، رقم الحدیث ۲۵۶۲، ج۴، ص۲۴۹ )
جنتیوں کے لئے ایک خصوصی انعام :
حضرت ِ سیدنا ابوسَعِیْد خُدْرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اہل جنت سے فرمائے گا : ’’اے جنتیو! ‘‘تو وہ عرض کریں گے : ’’اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ !ہم حاضر ہیں اور بھلائی تو تیرے ہی دست قدر ت میں ہے۔‘‘ اللہ تَعَالٰی فرمائے گا : ’’ کیا تم را ضی ہو؟‘‘ تو وہ عر ض کریں گے : ’’اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ ! ہم کیو ں نہ راضی ہوں کہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایاجو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا۔‘‘ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا : ’’ میں تمہیں اس سے بھی افضل نعمت نہ عطا فرماؤں ؟‘‘ وہ عر ض کریں گے : ’’ اس سے افضل شے کو نسی ہو گی ؟ ‘‘ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا : ’’ میں تمہیں اپنی رضا سونپتا ہوں لہذا! آج کے بعد کبھی تم سے نارا ض نہ ہوں گا۔‘‘(ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ، رقم ۲۵۶۴ ، ج۴ ، ص ۲۵۰)
جنتیوں کو کبھی موت نہ آئے گی ، جیسا کہ سورہ دخان میں ہے ،
لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰىۚ
ترجمہ کنزالایمان : اس میں پہلی موت کے سوا پھر موت نہ چکھیں گے ۔(پ ۲۵ ، سورۃ الدخا ن : ۵۶)
حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں عرض کی : ’’کیا اہل ِ جنت سویا کریں گے ؟‘‘تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’نیند موت کی جنس سے ہے اور جنتیوں کو موت نہیں آئے گی ۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح، کتاب صفۃ الجنۃ، رقم ۵۶۵۴، ج۳، ص۲۳۰)
کیا یہ نعمتیں جنتیوں کے پاس ہمیشہ رہیں گی ؟
جنتیوں کو یہ نعمتیں ہمیشہ کے لئے دی جائیں گی ، جیسا کہ سورۂ توبہ میں ہے ،
یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ(۲۱) خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ
ترجمہ کنزالایمان : ان کارب انہیں خوشی سناتاہے اپنی رحمت اور اپنی رضاکی اور ان باغوں کی جن میں انہیں دائمی نعمت ہے ہمیشہ ہمیشہ انمیں رہیں گے بے شک اللہ کے پاس بڑاثواب ہے۔‘‘
(پ ۱۰ سورۃ التو بہ : ۲۱ ، ۲۲)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ پکارنے والا پکار کر کہے گا : ’’ (اے جنت والو!) تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے۔ تم زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے‘ تم جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے‘ تم آرام سے رہو گے کبھی محنت و مشقت نہ اٹھاؤ گے۔‘‘ (مسلم ، رقم الحدیث۲۸۳۷، ص۱۵۲۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
گزشتہ سطور کا مطالعہ کرنے کے بعد یقیناً ہمارا دل بھی یہ چاہے گا کہ’’کاش! ہمیں بھی اس مقامِ رحمت میں داخلہ نصیب ہوجائے ، اے کاش !ہمیں بھی اس کے نظارے دیکھنے کو مل جائیں ۔‘‘اس خواب کی عملی تعبیر کے لئے ہمیں چاہئے کہ اپنی زندگی کے سماجی ، مالی ، گھریلو، تجارتی بلکہ ہر ہر معاملے میں نفس و شیطان کی پیروی کی بجائے قرآن وسنت کو اپنا راہنما بنائیں اور اس زندگی کو رحمن عَزَّوَجَلَّ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت میں بسر کرتے ہوئے نیکیوں کا خزانہ اکٹھا کریں ۔
پیارے اسلامی بھائیو!یوں تو ہر نیک عمل کی جزا جنت کو قرار دیا گیا ہے لیکن کچھ اعمال ایسے ہیں جن کے عامِلین کو رحمت ِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خصوصی طور پر دخول ِ جنت کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع