30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2) بنی اسرا ئیل کا ایک شخص گناہ سے بچنے کی کو شش نہ کرتا تھا ایک مرتبہ ایک مجبو ر عورت اس کے پاس آئی تو اس نے اسے ساٹھ دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ اس کے ساتھ زنا کرنے پر راضی ہوجائے۔ جب وہ اس عورت پر حاوی ہونے لگا تو وہ عورت کانپنے لگی اور روپڑی۔ اس نے عورت سے پوچھا : ’’ کیوں رورہی ہو؟‘‘ عورت نے جواب دیا : ’’ میں نے یہ کام کبھی نہیں کیا اور آج ایک ضرو رت نے مجھے یہ کام کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔‘‘اس نے پوچھا : ’’کیا یہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خو ف سے کر رہی ہو تو میں تجھ سے زیادہ ڈرنے کا حقدار ہوں ، جا میں نے جو کچھ تجھے دیا ہے وہ تیر ا ہے ، خدا کی قسم! آج کے بعد میں کبھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نا فرمانی نہ کرو نگا۔‘‘ پھر اسی رات اس کا انتقال ہوگیا۔ صبح اس کے درو ازے پر لکھا ہواتھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کفل کی مغفر ت فرمادی ۔‘‘ (ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ، رقم ۲۵۰۴ ، ج۴ ، ص ۲۲۳)
(3) ایک شخص کسی عورت پر فریفتہ ہوگیا ۔جب وہ عورت کسی کام سے قافلے کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئی تو یہ آدمی بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ جب جنگل میں پہنچ کر سب لوگ سو گئے تو اس آدمی نے اس عورت سے اپنا حالِ دل بیان کیا ۔ عورت نے اس سے پوچھا، ’’کیا سب لوگ سو گئے ہیں ؟‘‘ یہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ شاید یہ عورت بھی میری طرف مائل ہو گئی ہے چنانچہ وہ اٹھا اور قافلے کے گرد گھوم کر جائزہ لیا تو سب لوگ سورہے تھے ۔ واپس آکر اس نے عورت کو بتایا کہ ، ’’ہاں ! سب لوگ سو گئے ہیں ۔‘‘ یہ سن کر وہ عورت کہنے لگی ، ’’اللہ تَعَالٰی کے بارے میں تم کیا کہتے ہو، کیا وہ بھی اس وقت سو رہا ہے؟‘‘مرد نے جواب دیا ، ’’اللہ تَعَالٰی نہ سوتا ہے ، نہ اسے نیند آتی ہے اور نہ اسے اونگھ آتی ہے۔‘‘ عورت نے کہا ، ’’جو نہ کبھی سویا اور نہ سوئے گا ، اوروہ ہمیں بھی دیکھ رہاہے اگرچہ لوگ نہیں دیکھ رہے تو ہمیں اس سے زیادہ ڈرنا چاہئے۔‘‘ یہ بات سن کر اس آدمی نے رب تَعَالٰی کے خوف کے سبب اس عورت کو چھوڑ دیا اور گناہ کے ارادے سے باز آگیا۔
جب اس شخص کا انتقال ہوا تو کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا ، ’’مَافَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللہ تَعَالٰی نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟‘‘ تو اس نے جواب دیا ، ’’اللہ تَعَالٰی نے مجھے ترکِ گناہ اور اپنے خوف کے سبب بخش دیا۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، الباب الثانی فی الخوف من اللہ تَعَالٰی ، ص۱۱)
(4) بنی اسرائیل میں ایک عیال دار شخص نہایت عبادت گزار تھا ۔ اس پر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ اپنے اہل وعیال سمیت فاقے میں مبتلاء ہوگیا۔ایک دن اس نے مجبور ہو کر اپنی بیوی کو بچوں کے لئے کچھ لانے کے لئے باہر بھیجا۔ اس کی بیوی ایک تاجر کے دروازے پر پہنچی اور اس سے سوال کیا تاکہ بچوں کو کھانا کھلائے ۔ اس تاجر نے کہا ،
’’ٹھیک ہے میں تمہاری مدد کروں گا لیکن اس شرط پر کہ تم اپنا آپ میرے حوالے کردو۔‘‘یہ جواب سن کروہ عورت خاموشی سے گھر واپس آگئی ۔ گھر پہنچ کر اس نے دیکھا کہ بچے بھوک کی شدت سے چلاّ رہے ہیں اورکہہ رہے ہیں ، ’’اے امی جان! ہم بھوک سے مرے جارہے ہیں ، ہمیں کھانے کو کچھ دیجئے ۔‘‘ بچوں کی یہ حالت دیکھ کر وہ مجبوراً دوبارہ اس تاجر کے پاس گئی اور اسے اپنی مجبوری بتائی ۔ اس تاجر نے پوچھا ، ’’کیا تمہیں میرا مطالبہ منظور ہے ؟‘‘اس عورت نے کہا، ’’ہاں !‘‘
جب وہ دونوں تنہائی میں پہنچے اور مرد نے اپنا مقصد پورا کرنا چاہا تو وہ عورت تھرتھر کانپنے لگی ، قریب تھا کہ اس کے جسم کے جوڑ الگ ہوجائیں ۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر تاجر نے دریافت کیا ، ’’یہ تجھے کیا ہوا؟‘‘ عورت نے جواب دیا، ’’مجھے اپنے رب تَعَالٰی کا خوف ہے۔‘‘یہ سن کر تاجر نے کہا، ’’تم فقر وفاقہ کی حالت میں بھی اللہ تَعَالٰی سے ڈرتی ہو ، مجھے تو اس سے بھی زیادہ ڈرنا چاہئیے۔‘‘ چنانچہ وہ گناہ کے ارادے سے باز آگیا اور اس عورت کی ضرورت پوری کر دی ۔ وہ عورت بہت سارا مال لے کر اپنے بچوں کے پاس آئی اور وہ خوش ہو گئے۔
اللہ تَعَالٰی نے حضرت سَیِّدُنا موسی عَلَیْہِ السَّلَام کو وحی بھیجی کہ’’ فلاں ابن فلاں کو بتا دیں کہ میں نے اس کے تمام گناہ بخش دئیے ہیں ۔‘‘ حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام یہ پیغام لے کر اس آدمی کے پاس پہنچے اور اس سے پوچھا ، ’’شاید تو نے کوئی ایسی نیکی کی ہے جو تجھے یا تیرے رب کو معلوم ہے۔‘‘اس شخص نے سارا واقعہ آپ کو بتادیا تو آپ نے اسے بتایاکہ، ’اللہ تَعَالٰی نے تیرے تمام گناہوں کی مغفرت کر دی ہے ۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، الباب الثانی فی الخوف من اللہ تَعَالٰی ، ص۱۱)
(5) بنی اسرائیل کا ایک عابد اپنے عبادت خانے میں عبادت کیا کرتا تھا ۔ گمراہوں کا گروہ ایک طوائف کے پاس پہنچا اور اس سے کہا کہ’’تم کسی نہ کسی طرح اس عابد کو بہکا دو۔‘‘چنانچہ وہ فاحشہ ایک اندھیری رات میں جبکہ بارش برس رہی تھی ، اس عابد کے پاس آئی اور اس کو پکارا۔عابد نے جھانک کر دیکھا تو عورت نے کہا کہ ’’اے اللہ کے بندے !مجھے اپنے پاس پناہ دے ۔‘‘لیکن عابد نے اس کی پرواہ نہ کی اور نماز میں مشغول ہو گیا۔وہ طوائف اسے بارش اور اندھیری رات یاد دلا کر پناہ طلب کرتی رہی حتی کہ عابد نے رحم کھا کر اسے اندر بلا لیا ۔وہ عابد سے کچھ فاصلے پر جا کر لیٹ گئی اور اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔یہاں تک کہ عابد کا دل بھی اس کی طرف مائل ہو گیا ۔
لیکن اسی لمحہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف نے اس کے دل میں جوش مارا، عابدنے خود کو مخاطب کر کے کہا ، ’’واللہ !ایسا نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو دیکھ لے کہ آگ پر کتنا صبر کرسکتا ہے۔‘‘پھر وہ چراغ کے پاس گیا اور اپنی ایک انگلی اس کے شعلے میں رکھ دی ، حتی کہ وہ جل کر کوئلہ ہو گئی ۔پھر اس نے نماز کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کی لیکن اس کے نفس نے دوبارہ فاحشہ کی طرف بڑھنے کا مشورہ دیا۔یہ چراغ کے پاس گیا اور اپنی دوسری انگلی بھی جلا ڈالی، پھر اس کا نفس اسی طرح خواہش کرتا رہا اور وہ اپنی انگلیاں جلاتا رہا ، حتی کہ اس نے اپنی ساری انگلیاں جلا ڈالیں ، عورت یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی، چنانچہ خوف و دہشت کے باعث اس نے ایک چیخ ماری اور مر گئی۔(ذم الھوٰی، ص۱۹۹)
(6) حضرت شیخ ابو بکر بن عبد اللہ حزنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ ایک قصاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عاشق تھا ۔ایک دن وہ لونڈی کسی کام سے دوسرے گاؤں کو جا رہی تھی ، قصاب نے موقع غنیمت جان کر اس کا پیچھاکیا اور کچھ دور جا کر اسے پکڑ لیا ۔ تب کنیز نے کہا کہ’’اے نوجوان!میرا دل بھی تیری طرف مائل ہے لیکن میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتی ہوں ۔‘‘جب اس قصاب نے یہ سنا تو بولا، ’’جب تو اللہ تَعَالٰی سے ڈرتی ہے تو کیا میں اس ذاتِ پاک سے نہ ڈروں ؟‘‘یہ کہہ کر اس نے توبہ کر لی اور وہاں سے پلٹ پڑا۔راستے میں پیاس کے مارے دم لبوں پر آ گیا ۔اتفاقاً اس کی ملاقات ایک شخص سے ہو گئی جو کہ کسی نبی کا قاصد تھا ۔اس مردِ قاصد نے پوچھا، اے جوان کیا حال ہے؟‘‘قصاب نے جواب دیا، ’’پیاس سے نڈھال ہوں ۔‘‘قاصد نے کہا کہ’’ آؤ ہم دونوں مل کر خدا سے دعا کریں تاکہ اللہ تَعَالٰی ابر کے فرشتے کو بھیج دے اور وہ شہر پہنچنے تک ہم پر اپنا سایہ کئے رکھے ۔‘‘نوجوان نے کہا کہ’’میں نے تو خدا کی کوئی قابلِ ذکر عبادت بھی نہیں کی ہے ، میں کس طرح دعا کروں ؟تم دعا کرو میں آمین کہوں گا۔‘‘اس شخص نے دعا کی ، بادل کا ایک ٹکڑا ان کے سروں پر سایہ فگن ہو گیا ۔
جب یہ دونوں راستہ طے کرتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو وہ بادل قصاب کے سر پر آ گیا اور قاصد دھوپ میں ہو گیا ۔قاصد نے کہا، ’’اے جوان!تو نے تو کہا تھا کہ تو نے اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع