30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی نے حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ الرحمۃ سے پوچھا، ’’میں اپنی آنکھ کو بدنگاہی سے نہیں بچا پاتا ، میں کس طرح اس کی حفاظت کروں ؟‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا، ’’تم اس بات کا یقین کر لو کہ جب تم کسی کو بری نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہو تو حق تَعَالٰی تمہیں کہیں زیادہ دیکھ رہا ہوتا ہے ۔‘‘(کیمیائے سعادت، ج ۲، ص ۸۸۶)
حضرت سیدنا مجمع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک مرتبہ اوپر کی طرف دیکھا تو ایک چھت پر موجود کسی عورت پر نظر پڑ گئی ۔آپ نے فوراً نگاہ جھکا لی اور اس قدر پشیمان ہوئے کہ عہد کر لیا کہ ’’آئندہ کبھی اوپر نہ دیکھوں گا ۔‘‘(کیمیائے سعادت ج۲، ص ۸۹۳)
اگر شرعی رکاوٹ نہ ہوتو فوراً نکاح کر لے، اگر رسم ورواج وغیرہ آڑے آئیں تو گھر والوں کو کسی حکمت سے راضی کرنے کی کوشش کرے۔پھر بھی ناکام رہے تو روزوں کا حکم ہے۔
(۳) اجنبی عورتوں سے میل جول نہ رکھے :
اس قسم کی نوکری یا کاروبار سے اجتناب کریں جس میں اجنبی عورتوں سے آمنا سامنا ہوتارہے ۔گھر میں بھی بھابھی ہو یا ممانی یا چچی یا کزنز وغیرہ یعنی جن سے پردہ فرض ہے ان سے ہر گزہرگز بے تکلفی اختیار نہ کریں کہ یہ آگ میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
حضرت اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرما یا ، ’’میں نے اپنے بعد کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑا، جو عورتوں کے فتنے سے زیادہ مردوں کو نقصان پہنچانے والا ہو۔‘‘(بخاری، کتاب النکاح، باب مایتقی من شؤم المرأۃ ، رقم۵۰۹۶، ج۳، ص۴۳۱)
(۴)اجنبی عورت کے ساتھ تنہا ئی نہ ہونے دے :
کسی نامحرم عورت کے ساتھ ہرگز تنہائی میں نہ رہے کیونکہ رحمت ِعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے کہ ’’ تم میں سے کوئی کسی (نامحرم)عورت کے ساتھ ہر گز تنہائی اختیار نہ کرے، کیونکہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘(مسند امام احمد ، مسند العشرۃ المبشرۃ بالجنۃ)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’اجنبی عورت سے خلوت حرام ہے اور اس سے گفتگو کرنا مکروہ ہے ۔(فتاویٰ رضویہ ، ج ۱۰، نصف آخر ، ص ۷)
عورت سے گفتگو کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کچھ اس طرح ارشاد فرمایا : ’’تمام محارم سے عورت کو گفتگو کرنا اور انہیں اپنی آواز سنوانا جائز ہے اور اگر کوئی حاجت ہو اور اندیشۂ فتنہ نہ ہو اور تنہائی نہ ہو تو پردے میں رہتے ہوئے بعض نامحرم سے بھی گفتگو جائز ہے ۔‘‘(تسہیلاً من فتاویٰ رضویہ ، ج ۱۰، نصف آخر ، ص ۱۶۱)
(۵) امردوں کے قرب سے بچے :
حضرت حسن بن ذکوان علیہ الرحمۃ فرمایا کرتے تھے : ’ مالداروں کی اولاد کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہ رکھو کیونکہ ان کی صورتیں ، کنواری عورتوں کی صورتوں کی مثل ہوتی ہیں ، چنانچہ وہ باعتبار ِ فتنہ عورتوں سے زیادہ شدید ہیں ۔‘‘(کتاب الکبائر، ص۶۴)
ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمۃ حمام میں داخل ہوئے تو آپ کی نظر وہاں موجود ایک خوبصورت لڑکے پر پڑی ، آپ نے لوگوں سے فرمایا، ’’اسے میرے پاس سے دور کردو ، اسے باہر نکال دو، کیونکہ میں عورت کے ساتھ ایک اور خوبصورت لڑکے کے ساتھ سترہ شیطان گمان کرتا ہوں ۔‘‘(کتاب الکبائر، ص۶۴)
اس سلسلے میں شیخ طریقت امیرِ اہلِ سنت حضرت مولانا ابوبلال محمدالیاس عطار قادری مدظلہ العالی کا تحریر کردہ رسالہ ’’امرد پسندی کی تباہ کاریاں ‘‘پڑھنا بے حد مفید ہے۔اس رسالے میں شہوت پر قابو پانے کے لئے وظائف بھی دئیے گئے ہیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
ان واقعات کوپڑھئے اور ملاحظہ فرمائیے کہ اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والوں کو کیسے کیسے انعامات سے نوازا گیا ، …
(1) بنی اسرائیل کا ایک شخص نہایت عبادت گزار تھا ۔ وہ رات میں اللہ تَعَالٰی کی عبادت میں مصروف رہتا اور دن میں گھوم پھر کر کچھ اشیاء لوگوں کو بیچا کرتا۔ وہ اکثر اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے کہتا ، ’’اے نفس! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر۔‘‘ ایک دن وہ حسب معمول اپنے گھر سے روزی کمانے کے لئے نکلا اور چلتے چلتے ایک امیر کے دروازے کے قریب پہنچا اور اپنی اشیاء بیچنے کے لئے صدا لگائی ۔ امیر کی بیوی نے جب اس حسین شخص کو اپنے دروازے کے قریب دیکھا تو اس پر عاشق ہوگئی اور اسے بہانے سے محل کے اندر بلا لیا پھر اس سے کہنے لگی ، ’’اے تاجر ! میرا دل تمہاری طرف مائل ہوچکا ہے ، میرے پاس بہت مال ہے اورزرق برق لباس ہیں ، تم یہ کام چھوڑ دو میں تجھے ریشمی لباس اور بہت سا مال دوں گی ۔‘‘
یہ پیش کش سن کر اس کا نفس اس عورت کی طرف مائل ہونے لگا لیکن اس نے اپنی عادت کے مطابق کہا، ’’اے نفس ! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر ۔‘‘اور اس عورت کو جواب دیا ، ’’مجھے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا خوف ہے ۔‘‘ وہ عورت کہنے لگی ، ’’تم میری خواہش پوری کئے بغیر یہاں سے نہیں جاسکتے ۔‘‘اس شخص نے پھر کہا، ’’اے نفس ! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر ۔‘‘ اور نجات کی ترکیب سوچنے لگا ۔ بالآخر اس نے عورت سے کہا، ’’مجھے مہلت دو کہ میں وضو کر کے دورکعتیں ادا کرلوں ۔ ‘‘اجازت ملنے پر اس نے وضو کیا اور چھت پر چلاگیا۔ جہاں اس نے دو رکعت نماز ادا کی اور پھر چھت سے نیچے جھانکا تو اس کی اونچائی بیس گز تھی ۔ اس نے بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھا اور یوں عرض کی ، ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ میں طویل عرصہ سے تیری عبادت میں مشغول ہوں ، مجھے اس آفت سے نجات عطا فرما۔‘‘یہ کہہ کر وہ چھت سے کود گیا ۔
اللہ تَعَالٰی نے حضرت سیدنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیا ، ’’جاؤمیرے بندے کو زمین تک پہنچنے سے پہلے سنبھال لو، اس نے میرے عتاب کے خوف سے چھلانگ لگائی ہے۔‘‘حضرت جبرائیل ں نے نہایت تیزی سے آکر اس شخص کو یوں تھام لیا جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو پکڑتی ہے اور زمین پر کسی پرندے کی طرح بٹھا دیا ۔(درۃ الناصحین ، ص۳۱۳)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع