30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر اس کی زبان اس کے خلاف گواہی دے گی : ’’ میں نے اس کے ساتھ کلام کیا تھاجو حلال نہ تھی۔‘‘اس کے ہاتھ کہیں گے : ’’ ہم حرام کے لئے بڑھے تھے۔‘‘اس کی آنکھیں کہیں گی : ’’ہم نے حرام کو دیکھا تھا۔‘‘اس کے پیر کہیں گے : ’’ہم حرام کی جانب چلے تھے۔‘‘اس کی شرمگاہ کہے گی : ’’میں نے زناء کیا تھا۔‘‘اعمال لکھنے والے فرشتوں میں سے ایک کہے گا : ’’میں نے سنا تھا۔‘‘دوسرا کہے گا، ’’اور میں نے لکھا تھا۔‘‘
اللہ تَعَالٰی فرمائے گا، ’’میں اس کے کام پر مطلع تھا اور میں نے اس کا پردہ رکھا تھا۔‘‘پھر فرمائے گا، ’’اے میرے فرشتو!اسے پکڑ لواور میرا عذاب اسے چکھاؤ۔بے شک اس پر میرا عذاب شدید ہوتا ہے، جو مجھ سے شرم وحیاء میں کمی کرتاہے۔‘‘(کتاب الکبائر، صفحہ ۵۹)
بے شمار دنیاوی واُخروی آفات کا سبب بننے والے اس مذموم فعل کی قباحت قرآن کریم اور احادیث کریمہ سے ثابت ہے ، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :
وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ(۸۰) اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(۸۱)
ترجمہ کنزالایمان : اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہاں میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔‘‘ (پ۸، اعراف : ۸۰، ۸۱)
قومِ لوط(علیہ السلام)پر اسی کی وجہ سے عذاب نازل ہوا تھا، جس کا بیان قرآن مجید فرقانِ حمید میں ان الفاظ سے کیا گیا ہے :
فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ ﳔ مَّنْضُوْدٍۙ
ترجمہ کنزالایمان : پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کر دیا اور اس پرکنکر کے پتھر لگاتار برسائے۔‘‘(ھود : ۸۲)
اس کی مذمت میں احادیث ِ مقدسہ :
(۱) حضرت عمرو بن ابی عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، ’’جو قوم لوط کا سا عمل کرے ، وہ ملعون ہے۔‘‘ (ترمذی، کتاب الحدود، باب ماجاء فی حد اللوطی ، رقم ۱۴۶۱ج۳، ص۱۳۷)
(۲) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’چار قسم کے لوگ ایسے ہیں ، جو صبح اللہ تَعَالٰی کے غضب میں اور شام اس کی ناراضگی میں کرتے ہیں ۔‘‘عرض کی گئی : ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! وہ کون ہیں ؟ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’وہ مرد جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں اوروہ عورتیں جو مردوں سے مشابہت اختیار کرتی ہیں اور جانوروں اور مردوں سے بد فعلی کرنے والے۔‘‘(کنزالعمال، کتاب المواعظ، رقم۴۳۹۷۵، ج۱۶، ص۳۱)
(۳) حضرت ابو سعیدخُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، ’’عنقریب اس امت میں ایک ایسا گروہ ہوگا جو لوطیہ کہلائے گا۔یہ تین قسم کے ہوں گے۔
(i)جو امردوں کی صورتیں دیکھیں گے اور ان سے بات چیت کریں گے،
(ii)جو ان سے ہاتھ ملائیں گے اور گلے بھی ملیں گے ،
(iii)جو ان سے بدفعلی کریں گے۔
ان سبھی پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت ہے مگر جو توبہ کر لیں گے تو اللہ تَعَالٰی ان کی توبہ قبول فرما لے گا اور وہ لعنت سے بچے رہیں گے ۔(کنزالعمال ، کتاب الحدود، رقم ۱۳۱۲۹ج۵، ص۱۳۵)
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’تم جس شخص کو قوم لوط کا عمل کرتے پاؤ تو کرنے اور کروانے والے دونوں کو قتل کر دو۔‘‘(مستدرک ، کتاب الحدود، رقم ۸۱۱۳، ج۵، ص۵۰۸)
اور حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان کے لئے فرمایا کرتے تھے، ’’ یعنی بستی میں کوئی اونچی دیوار دیکھی جائے اور لوطی کو اس کے نیچے ڈال دیا جائے ، پھر اسکے ساتھ پتھروں والا معاملہ کیا جائے جیسا قوم لوط کے ساتھ کیا گیا تھا۔‘‘
حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی جانب ایک خط لکھ کر بھیجا کہ میں نے یہاں ایک ایسا شخص پایا ہے، جوبخوشی دوسروں کو اپنی ذات پر قدرت دیتا ہے۔‘‘ حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ طلب فرمایا۔ حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا، ’’بے شک یہ ایک ایسا گناہ ہے ، جسے فقط ایک امت یعنی قوم لوط نے کیا ہے اور بے شک اللہ تَعَالٰی نے ہمیں بتادیا کہ اس نے اس قوم کے ساتھ کیاکیا، چنانچہ میرا خیال ہے کہ اس شخص کو جلا دیا جائے۔‘‘
پس حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو لکھا کہ اسے آگ میں جلا دیا جائے۔آپ نے حسب ِحکم اسے آگ میں جلوا دیا۔‘‘ (کتاب الکبائر، ص۶۶)
مدینہ : ۔
زنا اور لواطت کی بیان کردہ شرعی سزائیں نافذ کرناحاکم اسلام کا کام ہے ، عوام کو چاہئے کہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ فلاں نے زنا یا لواطت جیسا قبیح فعل کیا ہے تو اس سے اس وقت تک سماجی تعلق ختم کرلیں جب تک وہ کامل توبہ نہ کرلے۔
(۱) حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فرمان ہے، ’’ جس نے کسی کو خود پر بخوشی قدرت دی ، حتی کہ دوسرے نے اس سے منہ کالا کیاتو اللہ تَعَالٰی اسے عورتوں کی سی شہوت میں مبتلاء فرما دے گا اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع