دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jannat Ki 2 Chabiyan | جنت کی دو چابیاں۔

book_icon
جنت کی دو چابیاں۔

کرتے ہوئے فرما رہے ہیں : ’’ابوالفضول! تم نے یہ کیوں کہا کہ یہ سونے کا کون سا وقت ہے ؟ آخر تجھے یہ فضول بات کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اب تمہیں سزا بھگتنا ہوگی ، میں سال بھر تجھے تکیہ پر سر نہیں رکھنے دوں گا ۔‘‘ میں نے دیکھا کہ یہ کہتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے سیلاب ِ اشک رواں تھا ۔(کیمیائے سعادت ج۲، ص ۸۹۳)

 (7) کسی بزرگ سے پوچھا گیا کہ ’’حضرت سیدنااحنف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   آپ لوگوں کے سردار کیسے بنے حالانکہ نہ تو وہ عمر میں سب سے بڑے ہیں اور نہ ہی مال ودولت میں ؟‘‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا :  ’’انہیں یہ سرداری اپنی زبان پر حکومت کرنے (قابو پانے)کی وجہ سے نصیب ہوئی ہے۔‘‘ (المستطرف فی کل فن مستظرف ، الباب الثالث عشر، ج۱ ، ص ۱۴۷)

 (8) حضرت سیدنا حسان بن سنان تابعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   ایک بلند مکان کے پاس سے گزرے تو اس کے مالک سے دریافت کیا : ’’یہ مکان بنائے تمہیں کتنا عرصہ گزرا ہے ؟‘‘ یہ سوال کرنے کے بعد آپ دل میں سخت نادم ہوئے اور اپنے نفس سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے ، ’’اے مغرور نفس ! تو بے کار وبے مقصد سوالات میں قیمتی وقت کو ضائع کرتا ہے ۔‘‘ پھر اس فضول سوال کے کفارے میں آپ نے ایک سال کے روزے رکھے ۔(منہاج العابدین ، ص  ۷۲)

 (9)  منقول ہے کہ ایک مرتبہ چار ممالک کے بادشاہ کسی جگہ جمع ہوئے تو ایران کے بادشاہ نے کہا : ’’میں نہ بول کر کبھی نہیں پچھتایا لیکن بولنے کی وجہ سے بارہا شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘روم کے بادشاہ نے کہا : ’’اپنی ان کہی بات کی تردید میرے لئے بہت آسان تھی جبکہ کہی ہوئی بات کی تردید مجھے بے حد دُشوار محسوس ہوئی ۔‘‘چین کے بادشاہ نے کہا : ’’جب تک میں خاموش رہا میں اپنی بات کا مالک تھا لیکن جب وہ بات کہہ بیٹھا تو وہ میری مالکہ بن گئی ۔‘‘ ہند کے بادشاہ نے کہا : ’’مجھے تو بولنے والے پر حیرت ہے کہ وہ ایسی بات کہتا ہی کیوں ہے ؟کہ جو منہ سے نکل جائے تو نقصان دے اور اگر نہ نکلے توکچھ نفع نہ دے ۔‘‘ (المستطرف فی کل فن مستظرف ، الباب الثالث عشر، ج۱ ، ص ۱۴۷)

 (10) ایک مرتبہ بادشاہ بہرام کسی درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا کہ اسے کسی پرندے کے بولنے کی آواز سنائی دی ۔ اس نے پرندے کی طرف تیر پھینکا جو اسے جالگا اور وہ ہلاک ہوگیا ۔ بہرام نے کہا : ’’زبان کی حفاظت انسان اور پرندے دونوں کے لئے مفید ہے کہ اگر یہ نہ بولتا تو اس کی جان بچ جاتی ۔‘‘ (المستطرف فی کل فن مستظرف ، الباب الثالث عشر ، ج۱، ص ۱۴۷)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

                یہ تمام واقعات زبان کے سلسلے میں احتیاط پسندی کے آئینہ دار ہیں ۔ ہمیں بھی اپنے اکابرین کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے حفاظت ِ زبان کے لئے عملی کوشش شروع کردینی چاہئے ، اللہ  تَعَالٰی ہمارا حامی وناصر ہو ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭٭٭   

 شرم گاہ کی حفاظت

        شرم گاہ کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس کے ناجائز استعمال سے بچے اور اپنے بدن کے فطری تقاضے یعنی شہوت کو پورا کرنے کے لئے وہی طریقے اپنائے جنہیں شرعی طور پر جائز قرار دیا گیاہو ۔بطورِ ترغیب اس کی حفاظت کے فضائل ملاحظہ ہوں ۔

شرم گاہ کی حفاظت کے فضائل

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        اللہ  تَعَالٰی نے فلاح کو پہنچنے والے (یعنی کامیابی کو پا لینے والے)مؤمنین کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵) اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ(۶) فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ(۷)

ترجمہ کنزالایمان : اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بی بیوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی ملک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں تو جو ان دو کے سواکچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں ۔‘‘ ۱۸، المومنون۵، ۶، ۷)

سرورِ عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی ترغیب ِامت کے لئے شرم گاہ کی حفاظت کے فضائل بیان فرمائے ہیں ۔چنانچہ

         حضرتِ ابن عبا س رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’اے قریش کے جوانو! اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، زنا مت کرو ، جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اس کے لئے جنت ہے ۔‘‘(المستدرک، کتاب الحدود، رقم ۸۱۲۷، ج۵، ص ۵۱۲ )

        اورحضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’عورت جب پانچوں نَمازیں ادا کرے ، اپنی شرمگاہ کی حفاـظت کرے اوراپنے شوہرکی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے گی ۔‘‘(الاحسان بترتیب ابن حبان، مسند ابوہریرہ ، رقم ۴۱۵۱ ، ج۶ ، ص ۱۸۴)

قضائے شہوت کے حلال ذرائع

پیارے اسلامی بھائیو!

                 شرعی طور پر دو قسم کی عورتوں سے اپنی خواہش کو پورا کرنا جائز ہے۔(۱)زوجہ  اور(۲)کنیزِ شرعی

        قرآن مجید میں ہے :

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ(۶)

مگر اپنی بی بیوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی ملک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں ۔‘‘ ۱۸، المومنون : ۶)

         فی زمانہ کنیزِشرعی میسر نہ ہونے کی بناء پرصرف زوجہ سے ہی مطلوبہ مقصد حاصل کرنا ممکن ہے۔اسی طریقے کی جانب متوجہ کرنے کے لئے رحمت ِعالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن