30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے مراد وہ کلام ہے جس سے کوئی دنیوی یا اُخروی فائدہ حاصل نہ ہو ۔ ایسے کلام میں مشغول ہونے سے احتراز ضروری ہے کیونکہ اس گفتگو میں صرف ہونے والے وقت کو نفع بخش کلام میں خرچ کیا جاسکتاتھا اور نفع سے محرومی بھی ایک طرح کا نقصان ہی ہے ۔لہذا!انسان کو چاہئے کہ یاتو اچھا کلام کرے ورنہ خاموش رہے ، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’کسی شخص کا بیکار باتوں کو چھوڑ دینا حُسنِ اسلام میں سے ہے۔‘‘(سنن الترمذی ، کتاب الزھد، رقم الحدیث ۲۳۲۴، ج۴، ص۱۴۲)
جبکہ حضرت ِ سیدنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’میں تمہیں فضول کلام سے ڈراتا ہوں ، انسان کے لئے اتنی ہی بات کافی ہے جو اس کی حاجت کے مطابق ہو۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب آفات اللسان ، ج۳، ص ۱۴۲)
اور امام مالکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت ہے کہ حکیم لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا گیا، ’’ہم آپ کا جو مقام دیکھ رہے ہیں ، آپ اس پرکس طرح پہنچے؟‘‘انہوں نے فرمایا، ’’سچی بات کرنے، امانت ادا کرنے اوربیکار گفتگوچھوڑ دینے سے۔‘‘(المؤطا للامام مالک، کتاب الکلام ، باب ماجاء فی الصدق والکذب ، رقم ۱۹۱۱، ج۲، ص۴۶۷)
(۱) ’’یہ گاڑی کتنے میں لی ؟‘‘
یادرہے کہ یہ سوال اس وقت فضول کہلائے گا جب اس سوال کے پیچھے کوئی واضح مقصد نہ ہو چنانچہ اگر کوئی اس لئے پوچھے کہ وہ بھی گاڑی خریدنے کی خواہش رکھتا ہے اور اندازہ کرنا چاہے کہ آیا میری قوتِ خرید اتنی ہے یا نہیں کہ میں یہ گاڑی خرید سکوں تو اب یہ سوال فضول نہیں کہلائے گا ۔واللہ تَعَالٰی اعلم
(۲) ’’آج بہت گرمی ہے ۔‘‘
لیکن اگر کوئی اس نیت سے یہ الفاظ کنایۃ بولے کہ میزبان ٹھنڈا پانی پلادے یا پنکھا چلادے اور اسے سوال بھی نہ کرنا پڑے تو یہ سوال فضول نہیں کہلائے گا۔جیسا کہ منقول ہے کہ مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کو جب پیاس لگتی تو فرماتے ’’مجھے پیاس لگی ہے ۔‘‘خدمت گار معاملہ سمجھ کر آپ کی بارگاہ میں پانی حاضر کردیتے اور آپ کو سوال بھی نہ کرنا پڑتا ۔
(۳) ’’نہ جانے یہ ٹریفک کیوں جام ہوجاتا ہے ۔‘‘
(۴) ’’نہ جانے یہ سڑکیں کب مکمل ہوں گی؟‘‘
(۵) ’’نہ جانے یہ ٹرین کب منزل پر پہنچے گی ؟‘‘
فضول گفتگو کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے امیرِ اہل ِ سنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی کے بیان ’’فضول گفتگو کی مثالیں ‘‘کا کیسیٹ سماعت فرمائیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
کلام کی مذکورہ بالا تقسیم اور اس کی تفصیل سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ قلت ِ کلام میں ہی عافیت ہے کیونکہ کلامِ کثیر کی صورت میں زبان کے نافرمانی میں مبتلاء ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں جیسا کہ حضرتِ سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرورِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جس کا کلام زیادہ ہوتاہے اس کی خطائیں بھی زیادہ ہوتی ہیں ۔‘‘
(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۵۱، ج۳، ص۳۴۵)
خاموش رہنے کی عادت اپنانے (یعنی قفل ِ مدینہ لگانے)کی وجہ سے گناہوں سے حفاظت کے ساتھ ہمیں درجِ ذیل برکتیں بھی حاصل ہوں گی ،
٭حضرتِ سیدناابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ملاقات رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہوئی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’اے ابودَرْدَائ! کیا میں تجھے دو ایسے عمل نہ بتاؤں جنکی مشقت تو خفیف ہے مگر ان کا اجر عظیم ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ان جیسے کسی عمل کے ساتھ ملاقات نہیں کی گئی وہ دو عمل طویل خاموشی اور حسنِ اخلاق ہیں ۔‘‘ (مجمع الزوائد، باب ماجاء فی حسن الخلق، رقم : ۱۲۶۷۲ ، ج۸ ، ص ۴۸)
٭ حضرتِ سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جو اللہ اورآخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے ۔‘‘ (ترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، رقم : ۱۹۷۴، ج۳، ص۳۸۹)
٭حضرتِ سیدنا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبیوں کے سرورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔ ‘‘(ترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، رقم : ۲۵۰۹، ج۴، ص۲۲۵)
٭ سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جسے سلامتی عزیز ہو اسے چاہئیے کہ خاموشی اختیار کرے ۔ ‘‘(شعب الایمان ، رقم ۴۹۳۷، ج۴، ص۲۴۱)
٭حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت نہیں پاسکتا جب تک اپنی زبان کو روکے نہ رکھے۔‘‘(المعجم الاوسط ، رقم الحدیث ۶۵۶۳، ج۵، ص۵۵)
٭ حضرتِ سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول ِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’خوشخبری ہے اس شخص کیلئے جو اپنا زائد کلام بچا کر رکھے اورزائد مال خرچ کردے۔‘‘(المعجم الکبیر ، مسند رکب المصری، رقم : ۴۶۱۶، ج۵ ، ص ۷۲ )
٭حضرت ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ میں نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تنہائی برے ہم نشین سے بہتر ہے ، اچھا ہم نشین تنہائی سے بہتر ہے، بھلائی کا سکھانا خاموشی سے بہتر ہے اور برائی کی تعلیم سے خاموشی بہتر ہے ۔ ‘‘(مشکوۃ المصابیح، کتاب الادب، رقم ۴۸۶۴، ج۳، ص۴۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع