30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طاری ہوجاتی ہے، جنت کس چیز سے بنائی گئی ہے ؟اس کا موسم کیسا ہوگا؟ اور داخل ِ جنت ہونے والے خوش نصیبوں کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا جائے گا؟ یہ جاننے کے لئے ذیل کی سطور کا مطالعہ فرمائیے، …
حضرتِ سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! ہمیں جنت اوراس کی تعمیر سے متعلق بتائیے؟ ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’اس کی ایک اینٹ سونے کی اورایک چاندی کی ہے اوراس کا گارا مشک کا ہے اوراس کی کنکریاں موتی اوریاقُوت کی ہیں اوراس کی مٹی زعفران کی ہے۔‘‘(ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ ، رقم ۲۵۳۴، ج۴ ، ص ۲۳۶)
حضرتِ سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جنت کی زمین سفید ہے ، اس کا میدان کافُور کی چٹانوں کا ہے ، اس کے گرد ریت کے ٹیلوں کی طرح مشک کی دیوار یں ہیں اوراس میں نہریں جاری ہیں ۔ ‘‘(الترغیب والترہیب، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، رقم ۳۴ ، ج۴ ، ص ۲۸۳)
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’اللہ تَعَالٰی نے ارشاد فرمایاکہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں کہ جن کو نہ توکسی آنکھ نے دیکھا ، نہ اس کی خوبیوں کو کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کی ماہیت کا خیال گزرا۔‘‘(مسلم، کتاب الجنۃ ، رقم الحدیث ۲۸۲۴، ص۱۵۱۶)
حضرت سیدناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’اگر جنت کی چیزوں میں سے ناخن برابر کوئی چیز ظاہر ہو جائے تو آسمان و زمین کے اطراف و جوانب اس سے آراستہ ہو جائیں ۔ ‘‘(ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، رقم الحدیث ۲۵۴۷، ج۴، ص۲۴۱)
حضرت سیدناعبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رحمت ِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جنت میں سومنزلیں ہیں اور ان میں سے ہردومنزلوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان ہے ۔‘‘(ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ ، رقم الحدیث۲۵۳۹، ج۴، ص۲۳۸)
جبکہ حضرت سیدناابوسعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول ِاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جنت میں سومنزلیں ہیں ، اگر اس کے ایک درجہ میں تمام جہانوں کے لوگ بھی جمع ہوجائیں تو وہ سب کو کافی ہوجائے گا۔‘‘(ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ ، رقم الحدیث۲۵۴۰، ج۴، ص۲۳۹)
حضرت سیدنا سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جنت کے آٹھ دروازے ہیں ۔‘‘(بخاری ، کتاب بداء الخلق، رقم۳۲۵۷، ج۲، ص۳۹۴)
حضرت سیدناعُتبہ بن غَزَوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ سرور ِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جنت (کے دروازوں )کی چوکھٹوں میں سے ہر دو چوکھٹ کے درمیان چالیس برس کا فاصلہ ہے ۔‘‘(مسلم، رقم الحدیث ۲۹۶۷، ، ص۱۵۸۶)
حضرت سیدنا ابوموسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول ِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’مؤمن کے لئے جنت میں کھکلی موتی (یعنی وہ موتی جس کے درمیان میں خالی جگہ ہوتی ہے)کا ایک خیمہ ہوگا جس کی چوڑائی ساٹھ میل ہے ۔‘‘ (بخاری، کتاب بداء الخلق، رقم الحدیث ۳۲۴۳، ج۲، ص۳۹۱)
جنتی لوگوں کو ایسے باغات عطا کئے جائیں گے جن کے نیچے ندیاں بہہ رہی ہوں گی ، جیسا کہ سورۃ الکہف میں ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ
ترجمہ کنزالایمان : بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کے نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں ان کے لئے بسنے کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہیں ۔
(پ ۱۵ ، الکہف : ۰ ۳ ، ۳۱ )
جنتیوں کو سونے کے کنگن اور سبز کپڑے پہنائے جائیں گے ۔ جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ارشاد ہوتا ہے :
یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ
ترجمہ کنزالایمان : وہ اس میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سبز کپڑے کریب اور قنا دیز کے پہنیں گے ۔(پ ۱۵ ، الکہف : ۰ ۳ ، ۳۱ )
حضرت ِ سیدنا کَعْبْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ اگر اہلِ جنت کے کپڑوں میں سے ایک کپڑا آج پہن لیا جائے تو اس کی طرف دیکھنے والے کی نظر اچک لی جائے اورلوگوں کی بینائیاں اسے برداشت نہ کرسکیں ۔(موسوعۃ ابن ابی الدنیا، کتاب صفۃ الجنۃ، الحدیث : ۱۴۹، ج۶، ص۳۵۱)
حضرتِ سیدناابوسعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’اہل ِ جنت میں سے جو کوئی چھوٹا یا بوڑھا مرجائے گا تو اسے جنت میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع