30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرورِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جس نے دنیا میں اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کی توروزِ قیامت اللہ تَعَالٰی ایک فرشتہ بھیجے گا جو جہنم سے اسکی حفاظت کرے گا‘‘۔(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب وغیرہ، الترہیب من الغیبۃ ، رقم الحدیث ۳۹، ج۳، ص۳۳۴)
اور حضرت ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جس نے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کیا اللہ تَعَالٰی روز قیامت اس سے جہنم کا عذاب دورکردے گا اورپھر حضور نے آیۃ مبارکہ تلاوت کی :
وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ
ترجمۂ کنزالایمان : اورہمارے ذمۂ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا۔‘‘(پ۲۱، الروم : ۴۷ )
(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۳۷، ج۳، ص۳۳۴)
اللہ تَعَالٰی ہمیں اپنی زبان اسلامی بھائی کی عزت کا دفاع کرنے میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا
ترجمۂ کنزالایمان : اور سچے اورسچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجز ی کرنے والے اور عا جزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اور روزے والیاں اوراپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کررکھا ہے۔‘‘
(پ ۲۲ ، سورۃ الاحزاب : ۳۵)
(۱) حضر ت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ’’سچائی کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ یہ نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جنت میں ہیں اور جھوٹ سے بچتے رہو کیونکہ یہ گناہ کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہیں ‘‘ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ، باب الکذب، رقم ۵۷۰۴، ج۷، ص ۴۹۴)
(۲) حضرت ِ سیدنا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’سچ انسان کو بھلائی کی طرف لیجاتااوربھلائی جنت کی طرف لیجاتی ہے انسان سچ بولتا رہتاہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک سچا لکھا جاتاہے اورجھوٹ انسان کو برائی کی طرف لے جاتااوربرائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے ، انسان جھوٹ بولتا رہتاہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھا جاتاہے ۔‘‘(بخاری ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۶۰۹۴، ج۴، ص۱۲۵)
اللہ تَعَالٰی ہمیں اپنی زبان سچ بولنے میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
حضرت ابو موسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ جب مدنی آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں کوئی سائل یا ضرورت مند حاضر ہوتاتو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے : ’’(حاجت روائی میں )اسکی سفارش کرو اجر پاؤ گے، اللہ تَعَالٰی اپنے رسول کے ذریعے جو چاہتاہے فیصلہ کرتاہے ۔‘‘ (صحیح بخاری ، کتاب الادب ، رقم ۶۰۲۷، ج۴، ص۱۰۷ )
جبکہ حضرت ِ سیدنامعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’سفارش کرکے اجر پاؤ ، تم میں سے کسی کی حاجت دیکھ کر میں اسے ذہن نشین کرلیتا ہوں کہ کب تم اسے حل کرو ا کر اجر پاؤ گے ؟‘‘(ابوداؤد، کتاب الادب ، باب فی الشفاعۃ رقم۵۱۳۲، ج۴، ص۴۳۱)
اللہ تَعَالٰی ہمیں اپنی زبان جائز سفارش کرنے میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
(17) اذان دینا
(۱) حضرت ِ سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’اذان کی انتہاء تک موذن کی مغفر ت کردی جاتی ہے اور اس کے لئے ہر خشک و ترچیز استغفار کرتی ہے ۔‘‘(مسند احمد ، مسند عبداللہ بن عمر بن خطا ب ، رقم ۶۲۱۰، ج ۲، ص ۵۰۰)
(۲) تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ خوشبودار ہے : ’’ثواب کے لئے اذان دینے والا اس شہید کی مانند ہے جو خون میں لتھڑا ہوا ہو اور جب مرے گا تو قبر میں اس کے جسم میں کیڑے نہیں پڑیں گے ۔‘‘(الترغیب والترہیب ، ج۱، ص۱۱۲)
(۳) سلطان ِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ باقرینہ ہے : ’’ جس نے ایمان کی بنا پر حصول ِ ثواب کے لئے پانچوں نمازوں کی اذان کہی اس کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جائیں گے ۔‘‘
(کنزالعمال ، رقم ۲۰۹۰۲، ص۲۸۷)
اللہ تَعَالٰی ہمیں اپنی زبان اذان دینے میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
(18) اذان واقامت کا جواب دینا
(۱) امیر المومنین حضرت ِسیدنا عمر بن خطا ب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رحمت ِعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’ جب مؤذن اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُکہے تو تم میں سے کوئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع