30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو خدا تَعَالٰی اس کی (ریاکاری) لوگوں میں مشہور کر دے گا اور اس کو ذلیل و رسوا کرے گا۔‘‘(مشکوۃ المصابیح، کتاب الرقاق، رقم ۵۳۱۹، ج۳، ص۱۳۸)
حضرت سیدنا ابو سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جب اللہ تَعَالٰی اولین و آخرین کو قیامت کے اس دن میں جمع فرمائیگا جس میں کوئی شک نہیں ہے تو ایک مُنادی یہ ندا کرے گاکہ جس شخص نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے کسی عمل میں دوسرے کو شریک کیا تھا تو وہ اس کا ثواب بھی غیر اللہ سے طلب کرے کیونکہ اللہ تَعَالٰی شریک سے بے نیاز ہے۔‘‘(ابن ماجہ ، کتاب الزھد، ص۴۷۰، رقم۴۲۰۳)
نفس ِ بدکار نے دل پے یہ قیامت توڑی
عملِ نیک کیا بھی تو چھپانے نہ دیا
اللہ تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
قرآنِ مجید میں ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۬ؕ
ترجمہ کنزالایمان : اے ایمان والو اپنے قول پورے کرو۔(پ۶، المائدہ : ۱)
مکی مدنی سلطان رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جو کسی مسلمان سے عہد شکنی کرے ، اس پر اللہ تَعَالٰی ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل ۔‘‘(بخاری ، رقم الحدیث ۱۸۷۰، ج۱، ص۶۱۶)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : ’’چار علامتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور ان میں سے ایک علامت ہوئی تو اس شخص میں نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے ، (۱)جب امانت دی جائے تو خیانت کرے ، (۲)جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، (۳)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے (۴)جب جھگڑا کرے تو گالی بکے ۔(بخاری ، ج۱، ص ۱۷، رقم ۳۴)
مسئلہ :
اگر کسی سے کوئی کام کرنے کا وعدہ کیا اور وعدہ کرتے وقت نیت میں فریب نہ ہو پھر بعد میں اس کام کو کرنے میں کوئی حرج پایا جائے تو اس وجہ سے اس کام کو نہ کرنا وعدہ خلافی نہیں کہلائے گا ، حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ، ’’وعدہ خلافی یہ نہیں کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی بھی ہو بلکہ وعدہ خلافی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی نہ ہو ۔‘‘(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ، ج۱۰، حصہ اول ، ص ۸۹)
صدرا لشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں : ’’وعدہ کیا مگر اس کو پورا کرنے میں کوئی شرعی قباحت تھی اس وجہ سے پورا نہیں کیا تو اس کو وعدہ خلافی نہیں کہا جائے گا اور وعدہ خلافی کا جو گناہ ہے اس صورت میں نہیں ہوگا اگرچہ وعدہ کرتے وقت اس نے استثناء نہ کیا ہو کہ یہاں شریعت کی طرف سے استثناء موجود ہے اس کو زبان سے کہنے کی ضرورت نہیں مثلاً وعدہ کیا تھا کہ’’ میں فلاں جگہ پر آؤں گا اور وہاں بیٹھ کر تمہارا انتظار کروں گا ۔‘‘مگر جب وہاں گیا تو دیکھتا ہے کہ ناچ رنگ اور شراب نوشی وغیرہ میں لوگ مصروف ہیں ، (لہذا!)وہاں سے چلا آیا تو یہ وعدہ خلافی نہیں ہے ، یا اس کا انتظار کرنے کا وعدہ کیا اور انتظار کر رہا تھا کہ نماز کا وقت آگیا ، یہ چلا آیا (تو یہ)وعدہ کے خلاف نہیں ہوا۔(بہار شریعت، حصہ ۱۶، مسئلہ نمبر ۴، ص۷۰۹)
اللہ تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
ہمارے معاشرے میں اول تو کوئی کسی کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتا اور اگر مدد کر بھی دے تو عموماًکسی نہ کسی موقع پر احسان جتا دیتا ہے مثلاًآج میرے سامنے بولتے ہو ، میرا احسان مانو کہ میں نے ہی تمہیں یہ ہنرسکھایا ہے ، …آج مجھے مسائل سمجھاتے ہو، میرا شکریہ ادا کرو کہ تمہیں وضو کرنا بھی میں نے سکھایا ہے ، وغیرہ …اور یوں اپنا ثواب ضائع کر بیٹھتا ہے ۔ اللہ تَعَالٰی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ
ترجمہ کنزالایمان : اے ایمان والو!اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذاء دے کر۔(پ۳، البقرۃ : ۲۶۴)
لہذا ! انسان کو چاہئیے کہ کسی کو صدقہ دینے یا اس کی مدد کرنے کے بعد ہرگز احسان نہ جتائے ۔اللہ تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
شکوہ وشکایت پر مشتمل کلمات بولنا
مصائب سے گھبرا کر شکوہ وشکایت میں مبتلاء ہوجانے کو فی زمانہ بہت معمولی تصور کیا جاتا ہے۔صد حیف! علمِ دین سے دورہمارے مسلمانوں کی اکثریت اس مذموم عادت میں مبتلاء ہے ۔ اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع