30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی کے عیوب ونقائص کو اس طرح ظاہر کرنا کہ لوگ اس پر ہنسیں تمسخر(مذاق اڑانا )کہلاتا ہے ۔ اس کے لئے کبھی تو کسی کے قول یا فعل کی نقل اتاری جاتی ہے اور کبھی اس کی طرف مخصوص انداز میں اشارے کئے جاتے ہیں ۔ یہ اس لئے ممنوع ہے کہ اس میں دوسرے مسلمانوں کی تحقیر اور اہانت ہے ، رب تَعَالٰی فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو!نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اورنہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہترہوں ۔
(پ ۲۶، الحجرات : ۱۱ )
حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’لوگوں سے استہزاء کرنے والوں کیلئے روزقیامت جنت کا ایک دروازہ کھول کر کہا جائے گا ’’یہاں آجاؤ ‘‘ جب وہ پریشانی کے عالم میں دروازے کی طرف دوڑ کر آئیں گے تو دروازہ بند کردیا جائے گا یہ عمل بار بار کیا جائے گا یہاں تک کہ پھر ان میں سے ایک کے لئے دروازہ کھولاجائے گا اور اسے بلایا جائے گا لیکن وہ ناامید ہونے کی وجہ سے نہیں آئے گا۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی تحریم اعراض الناس ، رقم الحدیث ۶۷۵۷، ج۵، ص۳۱۰)
اللہ تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ
’’ جو عورت بلاضرورت ِ شرعی شوہر سے طلاق مانگے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔‘‘(ابوداؤد ، کتاب الطلاق ، باب فی الخلع ، رقم ۲۲۲۶ج۲، ص۳۹۰)
اللہ تَعَالٰی ہماری اسلامی بہنوں کو اس حوالے سے اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
حضرت محمود بن لبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رحمت ِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دی ہیں ۔ یہ سنتے ہی حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غضب ناک ہو کر کھڑے ہو گئے پھر فرمایا : ’’ اللہ تَعَالٰی کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جاتا ہے حالانکہ میں تمہارے اندر موجود ہوں ۔ ‘‘
(نسائی، کتاب الطلاق، ج۳، ص۱۴۲ )
اس سے معلوم ہواکہ یکبارگی تین طلاقیں دینی حرام ہیں ۔ مرقاۃ میں اسی حدیث کے تحت ہے۔ الحدیث یدل علی ان التطلیق بالثلث حرام لانہ صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم لا یصیر غضبان الا بمعصیۃ الخ یعنی یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تین طلاقیں (ایک ساتھ )دینا حرام ہے کیونکہ سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ گناہ کے کام پر ہی ناراضگی کا اظہار فرماتے تھے ۔(انوار الحدیث ص۲۶۳)
اللہ تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانا
حضرت بریدہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مروی ہے کہ رحمت ِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جو کسی شخص کی بیوی کو اس کے خلاف بھڑکائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔‘‘(الترغیب والترہیب، کتاب النکاح، رقم۱، ج۳، ص۵۹)
ملاحظہ ہو کہ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف سے ناپسندیدہ قرار دیا جانے والا یہ عمل شیطان کو کس قدر پسند ہے، چنانچہ حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ شیطان پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے ، پھر اپنے لشکر بھیجتا ہے ۔ ان لشکروں میں ابلیس کے زیادہ قریب اس کا درجہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنہ باز ہوتاہے ۔ ایک لشکر واپس آکر بتاتا ہے کہ میں نے فلاں فتنہ برپا کیا تو شیطان کہتا ہے : ’’تونے کچھ بھی نہیں کیا۔‘‘
پھر ایک اور لشکر آتا ہے اور کہتا ہے : ’’میں نے ایک آدمی کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈال دی ۔‘‘یہ سن کر ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے : ’’توکتنا اچھا ہے ۔‘‘اور اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے ۔(الترغیب والترہیب، کتاب النکاح، رقم۳، ج۳، ص۵۹)
اول تو نفس وشیطان انسان کو عبادت کی طرف راغب ہونے ہی نہیں دیتے اور اگر وہ ان کو پچھاڑتے ہوئے عبادت کرنے میں کامیاب ہوبھی جائے تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کو ثواب سے محروم کروا دیں لہذا !یہ اسے اس بات پر مائل کرتے ہیں کہ وہ اپنی نیکیوں کا ذکر(بلاحاجت ِ شرعی) لوگوں سے کرے اور یوں یہ نفس وشیطان اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’جو شخص لوگوں میں اپنے عمل کا چرچا کرے گا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع