دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jannat Ki 2 Chabiyan | جنت کی دو چابیاں۔

book_icon
جنت کی دو چابیاں۔

  چھبیسویں قسم

    تلاوت ِ قرآن سنتے وقت گفتگو کرنا

        قرآن پاک میں ہے کہ

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ

ترجمہ کنز الایمان : اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔‘‘۹، الاعراف : ۲۰۴)

اور …    فتاویٰ رضویہ(جلد دہم، ص۱۶۷) میں ہے ، ’’جب بلند آواز سے قرآن پاک پڑھا جائے تو حاضرین پر سننا فرض ہے جبکہ وہ مجمع سننے کی غرض سے حاضر ہو، ورنہ ایک کا سننا کافی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ کام میں ہوں ۔‘‘

        اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

ستائیسویں قسم

  قضائے حاجت کرتے وقت باتیں کرنا

        قضائے حاجت کے وقت اور بیت الخلاء میں باتیں کرنا مکروہ تحریمی ہے ، لہذا اس سے بھی بچا جائے ۔(حدیقہ ندیہ، ج۲، ص۳۱۱)

         حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ مکی مدنی سلطان رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  ’’جب دو شخص قضائے حاجت کو جائیں تو پردہ کرلیں اورباتیں نہ کریں کیونکہ ایسے موقع پر باتیں کرنا اللہ  کو سخت ناپسندہے ۔‘‘(تاریخ بغداد ، رقم الحدیث۶۵۷۴، ج۱۲، ص۱۲۲)

        اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم     

 اٹھائیسویں قسم                     

 لوگوں کے بُرے نام رکھنا

         اصل نام سے ہٹ کر کسی کا ایسا ویسا نام (مثلاً لمبو، ٹھنگو، کالو وغیرہ)رکھنا بھی ہمارے معاشرے میں بہت معمولی تصور کیا جاتا ہے حالانکہ اس سے سامنے والے کو تکلیف پہنچتی ہے اور یہ ممنوع ہے۔ہاں ! اگر سامنے والے کو واقعتا اذیت نہ پہنچے اور اس میں اس کی تحقیر بھی نہ ہو اور وہ اسی نام سے معروف ہو تو حرج نہیں لیکن پھر بھی اصل نام سے پکارنا ہی مناسب ہے ۔

     رب  تَعَالٰی فرماتاہے :

وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ

ترجمۂ کنزالایمان :   اورایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا۔۲۶، الحجرات :  ۱۱)

اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

  انتسویں قسم

            کھانے میں سے عیب نکالنا

                                                کھانے میں عیب نکالنامکروہ و خلافِ سنت ہے اور اگر اس کی وجہ سے کھانا پکانے والے یا میزبان کی دل آزاری ہوجائے تو ممنوع ہے ۔

                                                حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ سرورِ عالم  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا (یعنی برا نہیں کہا) اگر خواہش ہوتی تو کھا لیتے اور خواہش نہ ہوتی تو چھوڑ دیتے۔ (بخاری، کتاب الاطعمۃ، رقم۵۴۰۹، ج۳، ص۵۳۱ )   

                                                امام اہل سنت الشاہ مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن لکھتے ہیں : ’’ کھانے میں عیب نکالنا اپنے گھر میں بھی نہ چاہئے، مکروہ وخلاف سنت ہے ۔ (سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ) عادت کریمہ یہ تھی کہ پسند آیا تو تناول فرما لیا ورنہ نہیں ۔ (رہا)پرائے گھر میں عیب نکالنا تو(اس میں ) مسلمانوں کی دل شکنی ہے اور کمالِ حرص وبے مروتی پر دلیل ہے ۔ ’’گھی کم ہے یا مزہ کا نہیں ‘‘یہ عیب نکالنا ہے اور اگر کوئی شے اسے مضر(نقصان دیتی) ہے ، اسے نہ کھانے کے لئے عذر کیا ، اس کا اظہار کیا نہ (کہ)بطورِ طعن وعیب مثلاً اس میں مرچ زائد ہے(اور) اتنی مرچ کا یہ عادی نہیں تو یہ عیب نکالنا نہیں اور اتنا بھی (اس وقت ہے کہ جب ) بے تکلفی خاص کی جگہ ہو اور اس کے سبب دعوت کنندہ (یعنی میزبان) کو اور تکلیف نہ کرنی پڑے مثلاً دو قسم کا سالن ہے ، ایک میں مرچ زائد ہے اور یہ عادی نہیں تو اسے نہ کھائے اور وجہ پوچھی جائے تو بتادے ۔ اور اگر ایک ہی قسم کا کھانا ہے ، اب اگر (یہ)نہیں کھاتا تو دعوت کنندہ(یعنی میزبان) کو اس کے لئے کچھ اور منگانا پڑے گا ، اُسے ندامت ہوگی اور تنگ دست ہے تو تکلیف ہوگی تو ایسی حالت میں مروت یہ ہے کہ صبر کرے اور کھائے اور اپنی اذیت ظاہر نہ کرے ۔ واللہ  تَعَالٰی اعلم    (فتاویٰ رضویہ ، ج ۱۰، نصف آخر ، ص ۱۱۶)

اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 تیسویں قسم

           بلاوجہ شرعی مسلمان کو ڈرانا دھمکانا

        کسی مسلمان کو ڈرانے یا دھمکی دینے سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اور یہ ممنوع ہے ۔ سرورِ عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’جس نے کسی مسلمان کو ناحق اذیت دی اس نے مجھے 

 اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے اللہ  تَعَالٰی کو اذیت دی ۔‘‘(مجمع الزوائد، کتاب الصلوۃ، رقم ۳۰۹۲، ج۲، ص۳۹۹)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن