30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان : اورجو بُری سفارش کرے اُس کے لئے اُس میں سے حصہ ہے ۔‘‘ (پ ۵، النساء : ۸۵)
حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مخزومیہ عورت نے چوری کی توقریش سوچ وبچارکرنے لگے کہ سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اسکی سفارش کون کرے ؟ بالآخرحضرت اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا انتخاب ہوا کہ یہ حضور کے محبوب ہیں یہ بات کرسکتے ہیں ۔ حضرت اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس عورت کی سفارش کی تو سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’کیا تم اللہ کی حدود میں سفارش کرتے ہو؟ ‘‘ پھرکھڑے ہوئے اورخطبہ دیا : ’’اے لوگو! تم سے پچھلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ ان میں صاحبِ منصب چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتااور اگر غریب چوری کرتا تو اس پر حد قائم کی جاتی ، خدا کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘
(مسلم ، کتاب الحدود، باب قطع السارق الشریف وغیرہٗ، رقم الحدیث۱۶۸۸، ص۹۲۷)
اللہ تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
لوگوں کوگناہوں پر ابھارنا اپنے سر پر گناہوں کا انبار لادنے کے مترادف ہے جیسا کہ رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جس نے کسی کو گمراہی کی دعوت دی اسے اس گمراہی کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ہوگا اوران کے گناہوں میں کمی نہ ہوگی ۔ (صحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سن حسنۃ الخ ، ص۱۴۳۸، رقم : ۲۶۷۴)
علاوہ ازیں قرآن مجید فرقان ِ حمید میں اسے منافقین کی نشانی قرار دیا گیا ہے چنانچہ ارشادِ ربّانی ہے :
اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ
ترجمۂ کنزالایمان : منافق مرد اورمنافق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں بُرائی کا حکم دیں اوربھلائی سے منع کریں ۔‘‘(پ۱۰، التوبۃ : ۶۷)
اللہ تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
بعض لوگ سخت لہجہ میں گفتگو کرنے کو باعث ِ افتخار تصور کرتے ہیں حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے عیب قرار دیا ہے اور نرمی کی ترغیب دلائی ہے ۔چنانچہ
ام المومنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی چھین لی جا تی ہے اسے عیب دار کردیتی ہے ۔‘‘(صحیح مسلم ، کتاب البروالصلۃ، با ب فضل الرفق، رقم ۱۲۵۹۴، ص ۱۳۹۸)
حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جسے نرمی میں سے حصہ دیا گیا اسے بھلائی میں سے حصہ دیا گیااو رجو نرمی کے حصے سے محرو م رہا وہ بھلائی میں اپنے حصے سے محرو م رہا ۔‘‘(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب فی الرفق، رقم ۲۰۲۰، ج۳، ص ۴۰۸)
اللہ تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
معظم دینی مثلاً کسی عالم دین یا پیر صاحب کی شان میں نازیبا کلمات کہنا بہت بڑی جرأت ہے ۔ امام اہل سنت الشاہ مولانا احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :
’’اگر (کوئی)عالم کواس لئے برا کہتا ہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے اور اگر بوجہِ علم اسکی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیوی خصومت کے باعث برا کہتا ہے، گالی دیتا ہے تحقیر کرتا ہے تو (ایسا کرنے والا)سخت فاسق فاجر ہے اور اگر بے سبب رنج رکھتا ہے تو مریض القلب ، خبیث الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے ۔‘‘(فتاویٰ رضویہ ، ج۱۰، نصف اول ، ص۱۴۰)
اللہ تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ جو امام کے خطبہ دیتے وقت کلام کرے اسکی مثال اس گدھے کی ہے جو بوجھ اٹھاتا ہے اورجو بات کرنے والے کو چپ رہنے کا کہے اسکا جمعہ (کامل)نہیں ہوگا۔‘‘(الترغیب والترہیب ، کتاب الجمعۃ ، الترہیب من الکلام والامام یخطب ، رقم الحدیث۳، ج۱، ص۲۹۲)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ مدنی تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’امام کے خطبہ دیتے وقت تمہارا کسی کو کہنا ’’چپ رہو‘‘ لغو ہے۔‘‘
(صحیح البخاری ، کتاب الجمعۃ ، باب الانصاتِ یوم الجمعۃ والامام یخطب ، رقم الحدیث۹۳۴، ج۱، ص۳۲۱)
علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : ’’خطبہ میں کھانا پینا ، کلام کرنا اگرچہ سُبحٰنَ اللہ کہنا ، سلام کا جواب دینا یا نیکی کی بات بتانا حرام ہے۔‘‘(درمختار مع ردالمحتار ، ج۳، ص۳۵)
اللہ تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع