دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jannat Ki 2 Chabiyan | جنت کی دو چابیاں۔

book_icon
جنت کی دو چابیاں۔

تجارت میں نفع نہ دے اورجب کسی کو گمشدہ چیز تلاش کرتے دیکھو تو کہو، اللہ  کرے تجھے یہ چیز نہ ملے‘‘۔ (ترمذی کتاب البیوع ، باب النھی عن البیع فی المسجد ، رقم الحدیث۱۳۲۵، ج۳، ص۵۹)

        اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم     

 سولہویں قسم                                                  

    گانے گانا

         امام اہل سنت الشاہ مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے ساز کے ساتھ گائے جانے والا مروّجہ گانے کوحرام قرار دیا ہے ۔(فتاویٰ رضویہ ، ج۱۰، ص۵۴)

        بے شمار خرابیوں کے اس مجموعے کو ماڈرن مفکر روح کی غذا قرار دیتے ہیں حالانکہ اس کا شمار لہوولعب میں ہوتا ہے جس کی قرآن مجید میں مذمت بیان کی گئی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :  

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ

ترجمۂ کنزالایمان :  اورکچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اللہ  کی راہ سے بہکادیں بے سمجھے۔(پ ۲۱، لقمٰن : ۶ )

        جبکہ حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا :  ’’گانا نفاق کو ایسے اگاتاہے جیسے پانی گھاس اگاتاہے۔ ‘‘(کنزالعمال، کتاب اللہ و واللعب ، رقم الحدیث ۴۰۶۵۱، ج۱۵، ص۹۵)

        اور۔۔۔حضرت ابواُمامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’جب بندہ گاتاہے اللہ  اس پر دوشیطان مسلط کردیتاہے جواسکے کندھوں پر بیٹھ کر اس کے چپ ہونے تک اپنی ایڑھیوں سے اس کے سینے پر مارتے رہتے ہیں ۔ ‘‘(تفسیرات احمدیہ، ص ۶۰۱)

        اس حدیث پاک کو پیشِ نظر رکھا جائے تو گانے والوں کی اچھل کود اور بے ہنگم حرکات وسکنات کی وجہ بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے ۔اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 سترھویں قسم                                                                                          

       نوحہ کرنا

                                                نوحہ سے مراد یہ ہے کہ میت کے اوصاف مبالغہ کے ساتھ بیان کر کے آواز سے رویا جائے، اسے بین بھی کہتے ہیں اوریہ بالاجماع حرام ہے۔ (بہار شریعت ، حصہ۴، مسئلہ نمبر۱۷، ص۳۵۷)

   اس کی مذمت کرتے ہوئے سید دوعالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :     

 (۱)  ’’جو گریبان پھاڑے ، چہرہ پیٹے اوراور جاہلیت کی پکار پکارے وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘    (سنن الترمذی ، کتاب الجنائز ، رقم الحدیث ۱۰۰۱، ج۲، ص۳۰۳)

 (۲)  ’’ جو آنسو آنکھ اور دل سے ہو تو وہ اللہ  کی طرف سے ہے اور رحمت ہے اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہے ۔‘‘ (مشکوۃ، کتاب الجنائز، رقم۱۷۴۸، ج۱، ص۴۸۶)

        اگر کسی کے گھر کوئی میت ہوجائے تو علمِ دین سے محروم اس گھر اور آس پڑوس کی خواتین نوحہ کرنے کو لازم تصور کرتی ہیں ، اگر کوئی اسلامی بہن اس مکروہ کام میں ان کا ساتھ نہ دے تو اس پر طعن وتشنیع کے تیر برسا کر اس بیچاری کی خوب دل آزاری کی جاتی ہے ۔ایسی خواتین یاد رکھیں کہ اس کی اُخروی سزا بہت کَڑی ہے جیسا کہ

        حضرت ابومالک اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ سرورِ عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’نوحہ کرنے والی عورت اگربغیر توبہ کیے مرجائے تو قیامت کے دن اسے گندھک کی قمیص اور خارش کی چادر پہنائی جائے گی‘‘۔(صحیح مسلم ، کتاب الجنائز ، رقم الحدیث ۹۳۴، ص۴۶۵)   

مد ینہ :  

        رقت ِ قلبی کی وجہ سے بلاآوازرونے میں کوئی قباحت نہیں ہے ، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’یادرکھو! بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نہ آنسوؤں سے رونے پر عذاب کرتا ہے نہ دل کے غم پر (پھر زبان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا )ہاں اس پر عذاب یا رحم فرماتا ہے ۔‘‘  (صحیح مسلم ، کتاب الجنائز ، باب البکاء علی المیت، رقم ۹۲۴، ص۴۲۰)

        اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 اٹھارھویں قسم                                            

دوسروں کے راز فاش کرنا

        زبان کی ایک آفت لوگوں کے راز فاش کرنا بھی ہے اور یہ ایک طرح کی خیانت ہے جو کہ ممنوع ہے کیونکہ اس سے اس شخص کو تکلیف پہنچتی ہے جس کا راز فاش کیا جائے ۔ حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرورِ عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’جب دو شخص آپس میں ایک دوسرے کو رازداں بنائیں تو ایک کیلئے دوسرے کا وہ راز فاش کرنا جائز نہیں جسکا فاش ہونا پہلے کو ناگوار گزرے‘‘۔(شعب الایمان ، رقم الحدیث ۱۱۱۹۱، ج۷، ص۵۲۰)

        جبکہ حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رحمت ِکونین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’ایک شخص کی بات دوسرے کے پاس امانت ہے ۔‘‘

(سنن الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی ان المجالس امانۃ، رقم الحدیث ۱۹۶۶، ج۳، ص۳۸۶)

        اور حضرت ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’روز قیامت اللہ  کے نزدیک سب سے بُرا وہ ہوگا جو اپنی بیوی سے یا جوبیوی اپنے شوہر سے قضائے شہوت کرے اوران میں سے کوئی اپنے ہمسفر کا راز فا ش کردے‘‘۔(صحیح مسلم ، کتاب النکاح ، باب تحریم افشاء سرالمرأۃ ، رقم الحدیث ۱۴۳۷، ص۷۵۳)

        لیکن تین قسم کی باتوں کو ظاہر کرنا جائز ہے جیسا کہ…

$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن