دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jannat Ki 2 Chabiyan | جنت کی دو چابیاں۔

book_icon
جنت کی دو چابیاں۔

        اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

بارہویں قسم                                                                     

    طعنہ زنی کرنا

        طعنہ زنی کرکے دوسروں کا جگر چھلنی کرنا بھی بعض لوگوں کا وطیرہ ہوتا ہے ۔ اللہ   تَعَالٰی فرماتاہے :

وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ

ترجمۂ کنزالایمان :   اورآپس میں طعنہ نہ کرو۔‘‘۲۶، الحجرات : ۱۱ )

        جبکہ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’جس نے اپنے بھائی کو کسی گناہ پر عار دلائی مرے گا نہیں جب تک اس گناہ میں مبتلا نہ ہو۔‘‘ایک روایت میں ہے کہ ’’ اس گناہ پر عار دلائی جس سے توبہ کرچکا ۔‘‘ (سنن الترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ  ، رقم الحدیث ۲۵۱۳، ج۴، ص۲۲۷)

        اورحضرت واثِلۃ بن اَسقع سے مروی ہے کہ حضورپرنورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’اپنے بھائی کو عار نہ دلاؤ کہ اسے چھٹکارا دیکر تمہیں مبتلا کردیا جائے ۔‘‘ (سنن الترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، رقم الحدیث ۲۵۱۴، ج۴، ص۲۲۷)   

اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 تیرھوین قسم

تقدیر میں بحث کرنا

     تقدیر میں بحث کرنے کی بھی حدیث ِ پاک میں ممانعت کی گئی ہے چنانچہ

        حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ہم لوگ تقدیر کے مسئلہ میں بحث کر رہے تھے کہ رسول خدا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے آئے تو شدت غضب سے آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا کہ گویا انار کے دانے آپ کے رخسار مبارکہ پر نچوڑ دیئے گئے ہوں ۔ آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’کیا تم کو اسی کا حکم دیا گیا ہے؟ کیا میں تمہاری طرف اسی چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہوں ؟ تم سے پہلی قومیں قضا و قدر کے مسئلہ میں مباحثہ کے سبب ہلاک ہوئیں ، میں تمہیں قسم دیتا ہوں اور مکرر قسم دیتا ہوں آئندہ اس مسئلے میں کبھی بحث نہ کرنا۔‘‘ (ترمذی، کتاب القدر، رقم۲۱۴۰، ج۴، ص۵۱)

مسئلہ :

         قضا و قدر کے مسائل عام لوگ نہیں سمجھ سکتے اس میں زیادہ غور و فکر کرنا دین و ایمان کے تباہ ہونے کا سبب ہے۔ حضرتِ سیدنا ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ  تَعَالٰی عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ بھی اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے تو پھر ہم لوگ کس گنتی میں ہیں ۔ اتنا سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ  تَعَالٰی نے آدمی کو پتھر اور دیگر جمادات کے مثل بے حس و حرکت پیدا نہیں کیا بلکہ اس کو ایک قسم کا اختیار دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے نہ کرے اور اس کے ساتھ عقل بھی دی ہے کہ بھلے برے نفع و نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیا کر دیئے کہ جب آدمی کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اسی قسم کے سامان مہیا ہو جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اس پر مواخذہ ہے اپنے کو بالکل مجبور یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی ہیں ۔ (بہار شریعت، حصہ ۱، ص۲۶ملخصاً)

        اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 چودھویں قسم                                             

بغیر علم کے فتویٰ دینا

        ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ہے جو علمِ دین سے بے بہرہ ہونے کے باجود دینی مسائل میں رائے زنی کو اپنا حق تصور کرتے ہیں اور لوگوں کو غلط مسائل بتا نے میں ذرا جھجھک محسوس نہیں کرتے حالانکہ معلِّم اعظم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ، ’’جوبغیر علم کے فتویٰ دے، اس پر زمین وآسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں ۔‘‘(کنزالعمال، رقم۲۹۰۱۴، ج۱۰، ص۸۴)

        امامِ اہل سنت الشاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’جاہل پر سخت حرام ہے کہ فتوی دے ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ ، ج ۱۰، نصف آخر ، ص ۲۷۵)

        اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 پندرھویں قسم

            مسجد میں دنیا کی باتیں کرنا

                                                مسجد میں دنیا کی باتیں کرنا بھی آج کے جدید معاشرے میں معیوب نہیں سمجھا جاتاحالانکہ مدنی آقا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ، ’’قرآن پاک پڑھنے ، ذکرُاللہ  عَزَّ وَجَلَّ کرنے، اور بھلائی کی بات پوچھنے یابتانے کے سوا ہربات مسجد میں فضول ہے ۔‘‘(کنزالعمال  ، کتاب الصلوٰۃ ، رقم۲۰۸۳۶، ج۷، ص۲۷۳)

 (۱)  حضرت ِ سیدناحسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بطریق مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ مسجدوں کے اندر دنیا کی باتیں کریں گے تو اس وقت تم ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھنا۔ خدائے  تَعَالٰی کو ان لوگوں کی کچھ پروانہیں ۔ ‘‘(شعب الایمان، باب فی الصلوۃ، رقم۲۹۶۲، ج۳، ص۸۷)

(۲)  حضرت ِ سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رحمت ِ عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’جسے مسجد میں گمشدہ چیز تلاش کرتے دیکھو تو دعا کرو کہ وہ چیز اسے نہ ملے کیونکہ مساجد ان کاموں کیلئے نہیں بنیں ‘‘۔ (مسلم ، کتاب المساجد ، باب النھی عن نشد الضالۃ فی المسجد ومایقولہ ، رقم الحدیث۵۶۸، ص۲۸۴)

 (۳)  حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے کہ سلطان ِ مدینہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’جب تم کسی کو مسجد میں خرید وفروخت کرتے دیکھو تو کہو : اللہ  تجھے اس

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن