دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jannat Ki 2 Chabiyan | جنت کی دو چابیاں۔

book_icon
جنت کی دو چابیاں۔

        اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

نویں قسم                                              

           لعنت بھیجنا

        کسی کو اللہ  کی رحمت سے دور کہنا اورکرنا ’’لعنت ‘‘کہلاتی ہے ۔ یقین کے ساتھ کسی پر بھی لعنت کرنا جائز نہیں چاہے وہ کافر ہویامومن ، گنہگار ہویا فرمانبردار کیونکہ کسی کے خاتمہ کا حال کوئی نہیں جانتا۔ (حدیقہ ندیہ ، ج۲، ص۲۳۰)

        فتاویٰ رضویہ میں ہے کہ ’’لعنت بہت سخت چیز ہے ، ہر مسلمان کو اس سے بچایا جائے بلکہ کافر پر بھی لعنت جائز نہیں جب تک اس کا کفر پر مرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہ ہو۔‘‘(جلد ۱۰، نصف ثانی ، ص ۲۵۵بتغیرمّا)

        ہمارے معاشرے میں بات بات پرلعنت ملامت کرنے کا مرض بھی عام ہے اور علم دین سے محرومی کے باعث اس میں کوئی حرج بھی نہیں سمجھاجاتا حالانکہ کسی مؤمن کو لعنت کرنااسے قتل کرنے کے مترادف ہے جیسا کہ حضرت ِ سیدناضحاک سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’کسی مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے۔‘‘

(صحیح البخاری ، کتاب الایمان والنذر ، رقم الحدیث ۶۶۵۲، ج۴، ص۲۸۹)

        اور کسی پر لعنت کرنا مؤمن کی شان کے بھی منافی ہے جیسا کہ حضرت ِ سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ مدنی آقاصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  ’’مومن لعن طعن اورفحش کام نہیں کرتا۔‘‘(سنن الترمذی  ، کتاب البر والصلۃ ، رقم الحدیث ۱۹۸۴، ج۳، ص۳۹۳)

کسی کو لعن طعن کرنے کی عادت پالنے والے بھائی اس حدیث پر غور کریں :

         حضرتِ سیدنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول ِاکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’بندہ جب لعنت کرتاہے وہ آسمان کی طرف جاتی ہے تو وہاں کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ، پھر یہ زمین کی طرف لوٹتی ہے تو زمین کے دروازے بھی بند کردئیے جاتے ہیں اوریہ دائیں بائیں کہیں سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے ، جب کوئی راستہ نہیں پاتی تو جس پر بھیجی گئی وہ اہل ہوتو اس کی طرف لوٹتی ہے ورنہ لعنت بھیجنے والے پر واپس آتی ہے۔‘‘(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۴۹۰۵، ج۴، ص۳۶۱)

        اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

دسویں قسم

           گالی دینا

         امام اہل ِ سنت الشاہ مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’کسی مسلمان جاہل کو بھی بے اذن شرع گالی دینا حرام قطعی ہے ۔‘‘(فتاویٰ رضویہ ، ج۱۰، نصف اول ، ص ۱۴۰)

         حضرت ِ سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’مسلمان کو گالی دینا فسق ( گناہ) ہے۔‘‘

( مسلم، کتاب الایمان، رقم۱۱۶، ص۵۲ )

        حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرور کونین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’مسلمان کو گالی دینا خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔‘‘(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۳، ج۳، ص۳۱۱)   

اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

گیارہویں قسم     

          فحش کلامی کرنا

        فحش کلامی سے مراد یہ ہے کہ ان باتوں کو واضح الفاظ میں ذکر کردیا جائے جن کا صراحۃً اظہار برا سمجھا جاتا ہو مثلاً جماع کی کیفیات یا پوشیدہ امراض کو(بلاحاجت ِ شرعی ) بیان کرنا۔(احیاء العلوم ، کتاب آفات اللسان ، ص۱۵۱)

         مکی مدنی سلطان رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’بے شک اللہ  تَعَالٰی فحش گوئی اور بدزبانی کو پسند نہیں فرماتا ۔‘‘ (مسلم، رقم۲۱۶۵، ص۱۱۹۳ )

        بدقسمتی سے فحش کلامی کے شوقین بھی ہمارے معاشرے میں کثرت سے پائے جاتے ہیں جو حصولِ لذت اور دوستوں کی محفلیں گرمانے کے لئے شہوت بھری گفتگو کرنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ فحش گوئی کا سہارا لے کر دادوتحسین سمیٹنے والے یاد رکھیں کہ اس کا انجام بہت بُرا ہے ، چنانچہ

٭ شہنشاہ ابرار، جناب احمد ِ مختارصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ’’چار طرح کے جہنمی کھولتے پانی اور آگ کے درمیان بھاگتے پھرتے اور ویل وثبور(یعنی ہلاکت)مانگتے ہوں گے ، ان میں سے ایک ایسا شخص بھی ہوگا جس کے منہ سے خون اور پیپ بہتے ہوں گے ۔ جہنمی کہیں گے : ’’اس بدبخت کو کیا ہوا کہ ہماری تکلیف میں اضافہ کئے دیتا ہے ؟‘‘جواب ملے گا : ’’یہ بدنصیب ، خبیث اور بری بات کی طرف متوجہ ہوکر لذت اٹھاتا تھا مثلاً جماع کی باتوں سے ۔‘‘(اتحاف السادۃالمتقین ، کتاب آفات اللسان ، ج۹، ص۱۸۷)

٭حضرت سیدناابو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ شرم و حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان والا جنت میں جائے گا اور بے حیائی ، فحش گوئی برائی کا حصہ ہے اور برائی والا دوزخ میں جائے گا۔ ‘‘(ترمذی، کتاب البر والصلۃ  ، رقم ۲۰۱۶، ج۳، ص۴۰۶)

٭حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرورِ عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’فحش گو پر جنت میں داخل ہونا حرام ہے۔‘‘(اتحاف السادۃ للمتقین ، کتاب آفات اللسان ، ج۹، ص۱۸۷)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن