دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jannat Ki 2 Chabiyan | جنت کی دو چابیاں۔

book_icon
جنت کی دو چابیاں۔

چوتھی قسم  

     جھوٹے خواب گھڑ کر سنانا

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہردلعزیز بننے کے چکر میں یا کسی اور غرض ِ فاسد کے لئے جھوٹے خواب گھڑ کر سناتے ہیں جو کہ ناجائز ہے ، جیسا کہ

        مکی مدنی سلطان رحمت عالمیان صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’تین شخص جنت کی خوشبو سے محروم ہوں گے (۱)اپنے باپ کے علاوہ دوسرے سے نسب کا دعوی کرنے والا (۲)مجھ پر جھوٹ باندھنے والا (۳)جھوٹا خواب سنانے والا۔‘‘(فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ، رقم الحدیث ۳۵۳۲، ج۳، ص۴۳۱)

٭ حضرت ابن عباس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’جو جھوٹاخواب سنائے اسے جو کے دودانوں میں گانٹھ لگانے کی تکلیف دی جائے گی جو یہ نہیں کر سکے گا ‘‘۔ (صحیح البخاری ، کتاب التعبیر ، رقم الحدیث ۷۰۴۲، ج۴، ص۴۲۲)

         لہذا ! اگر کوئی اس عادت ِ بدمیں مبتلاء ہوتو فوری طور پر توبہ کرے اور آئندہ کے لئے جھوٹے خواب گھڑ کر سنانے سے باز رہے ۔اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم     

 پانچویں قسم

          ہرسنی سنائی بات آگے بڑھا دینا

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہرسنی سنائی بات کو بلاتحقیق آگے بڑھا دینا ممنوع ہے ، جیسا کہ حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرورِ عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  ’’انسان کے جھوٹا ہونے کیلئے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کر دے ۔‘‘ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، رقم الحدیث ۵، ص۸)

        اللہ  تَعَالٰی ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 چھٹی قسم   

     غیبت کرنا اور بہتان لگانا

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غیبت سے مراد یہ ہے کہ اپنے زندہ یا مردہ مسلمان بھائی کے پوشیدہ عیوب کو (جن کا دوسروں کے سامنے ظاہر ہونااُسے ناپسند ہو) اس کی برائی کے طور پر ذکر کیا جائے ، اور اگر وہ بات اس میں موجود نہ ہوتو اسے بہتان کہتے ہیں ۔مثلاً ، ’’مجھے بے وقوف بنا رہا تھا ‘‘ ، ’’اس کی نیت خراب ہے ‘‘، ’’ڈرامہ باز ہے ‘‘وغیرہ   (ماخوذ از بہارِ شریعت، حصہ ۱۶، ص۱۴۹)

         رسول ِ اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت فرمایا : ’’ تمہیں معلوم ہے غیبت کیا چیزہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کی : ’’ اللہ  ورسول  عَزَّوَجَلَّ  و صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو اس کا بہتر علم ہے۔‘‘ ارشاد فرمایا : ’’ غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کہو جو اسے بری لگے۔ ‘‘کسی نے عرض کی : ’’ اگر میرے بھائی میں وہ برائی موجود ہو تو اس کو بھی کیا غیبت کہا جائے گا؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’ جو کچھ تم کہتے ہو اگر اس میں موجود ہو جبھی تو غیبت ہے اور اگر تم ایسی بات کہو جو اس میں موجود نہ ہو تو یہ بہتان ہے۔‘‘

( مسلم، کتاب البر والصلۃ ، باب تحریم الغیبۃ، رقم ۲۵۸۹، ص۱۳۹۷)

                                                پیارے اسلامی بھائیو !غیبت اس قدر بُرا کام ہے کہ اسے اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے ، چنانچہ قرآن مجید میں اللہ  تَعَالٰی نے ارشاد فرمایا :  

وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ

ترجمہ کنزالایمان : اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی یہ پسند رکھے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا۔(پ۲۶، الحجرات : ۱۲)

        افسوس صد افسوس ! آج مسلمانانِ عالم کی اکثریت زبان کی اس آفت میں مبتلاء ہے ۔ شاید ہی کوئی مجلس اس گناہ کے ارتکاب سے خالی ہوتی ہو ، محض وقت گزاری کی خاطر کسی غائب شخص کو ہدف بنا کر اس کی خوب غیبت کی جاتی ہے پھر اگر اس شخص کو اس کی خبر ہو جائے تو وہ بھی جوابی کاروائی کے طور پر اپنی غیبت کرنے والوں کی غیبت کرتا ہے اور یوں گناہوں کا بازار گرم ہونے کے ساتھ ساتھ گھر گلی اور محلہ میدانِ کارزار کی صورت اختیار کر لیتے ہیں ۔سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات غیبت کرنے کے باوجود اسے غیبت تسلیم کرنے سے بھی انکار کردیا جاتا ہے جسے علمائے کرام نے کفر قرار دیا ہے چنانچہ صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہارشریعت حصہ ۱۶ ص۶۴۶ پر نقل فرماتے ہیں کہ ’’ایک شخص غیبت کررہا ہے ، اس سے کہا گیا کہ غیبت نہ کرو، وہ کہنے لگا : یہ غیبت نہیں میں سچا ہوں ۔‘‘تو یہ کفر ہے کیونکہ اس شخص نے ایک حرام قطعی کو حلال بتایا الخ ۔ لیکن یادر ہے کہ کہنے والا اسی صورت میں کافر ہوگا جب اسے غیبت کے حرامِ قطعی ہونے کا علم ہو اور وہ غیبت کی تعریف بھی جانتا ہو ۔(ماخوذ از رسالہ’’ غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ ، ص۱۵)

پیارے اسلامی بھائیو!

                غیبت کرنے والے کو آخرت میں اپنی زبان کی بے احتیاطی کا وبال بھگتنا پڑے گا ، جیسا کہ

 (1)  سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے معراج کی رات میں لوگوں کو اس حال میں دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنے ناخنوں سے اپنے چہروں کو نوچ رہے ہیں ، میں نے حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام سے پوچھا : ’’ یہ کون لوگ ہیں ؟ ‘‘تو انہوں نے بتایا :  ’’یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کی غیبت اور آبروریزی کیا کرتے تھے۔ ‘‘

(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، باب فی الغیبۃ، رقم۴۸۷۸ ج۴، ص۳۵۳)

 (2)  حضرتِ سیدناابواُمامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’قیامت کے دن ایک شخص کو اسکا نامۂ اعمال پڑھنے کیلئے دیا جائے گا ، وہ اسے دیکھ کر کہے گا : ’’ اے میرے رب !میری فلاں فلاں نیکیاں کہاں ہیں جومیں نے کی تھیں ؟ ‘‘ رب  تَعَالٰی فرمائے گا کہ’’ لوگوں کی غیبت کرنے کی وجہ سے میں نے تیرے نامۂ اعمال سے وہ نیکیاں مٹا دی ہیں ۔ ‘‘ (الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۳۰، ج۳، ص۳۳۲)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن