30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کسی مسلمان کو بیماریا بھوک پیاس میں گرفتار یا بے رُوز گار و قَرضْدار یا آفتوں میں گِرِفتار یا دُنیوی مصیبتوں کا شِکار یا مُشکلات سے دوچار دیکھ کر ہمیں تَرس آتا ہے اور آنا بھی چاہئے لیکن گناہوں کی بھرمار کے سَبَب آخِرت کو داؤ پر لگانے والے اور اپنے آپ کو قَبْر و جہنّم کے عذاب کا حَقْدار بنانے والے مسلمان پر بالکل ہی تَرس نہیں آتا یہ قابِلِ افسوس ہے گویا دُنیوی مصیبتوں کے مُقابَلے میں آخِرت کی مصیبتوں کو کمتر سمجھ لیا گیا ہے! حالانکہ جسمانی مریض کے مقابلے میں روحانی یعنی گناہوں کا مریض زیادہ توجُّہ کا مستحق ہے کہ مسلمان کو دنیا کی تکلیفیں آخِرت میں راحتیں دِلا سکتی ہیں مگر گنہگار کو اُس کے گناہ دوزخ کے غار میں پَہُنْچا سکتے ہیں۔لہٰذا اس بات کی شدَّت کے ساتھ ضَرورت ہے کہ عِلْمِ دِین کی رَوشنی پھیلائی جائے کہ مَعلومات ہوں گی جبھی تو بندہ گناہوں سے بچےگا، اگر گناہ وثواب کی شُد بُد ہی نہ ہو گی تو یہ سنّتوں بھری زِنْدَگی کیوں کر گزار سکے گا! صدکروڑافسوس! آج کل نادان مسلمان نفس و شیطان کے بَہکاوے میں آکر اِس فانی جہان پر تو دِل و جان سے قربان ہے مگر اُسے فرائض تک کا علم نہیں حالانکہ سرکارِدو عالم، نُورِ مجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ یعنی عِلْم حاصِل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ (اِبن ماجہ، کتاب السنۃ، باب فضل العلماء، ۱ / ۱۴۶، حدیث: ۲۲۴) اس حدیثِ پاک سے اسکول کالج کی مُرَوَّجہ دُنیوی تعلیم نہیں بلکہ ضَروری دینی علم مُرادہے۔ لہٰذا سب سے پہلے اسلامی عقائد کا سیکھنا فرض ہے، اس کے بعدنَماز کے فرائض و شرائط ومُفسِدات (یعنی نَماز کس طرح دُرُست ہوتی ہے اور کس طرح ٹوٹ جاتی ہے ) پھر رَمَضانُ المُبارَک کی تشریف آوَری ہوتوجس پر روزے فرض ہوں اُس کیلئے روزوں کے ضَروری مسائل ، جس پر زکوٰۃ فرض ہو اُس کے لئے زکوٰۃ کے ضَروری مسائل، اسی طرح حج فرض ہونے کی صورت میں حج کے، نکاح کرنا چاہے تو اس کے، تاجر کو تجارت کے، خریدار کو خریدنے کے، نوکری کرنے والے اورنوکر رکھنے والے کو اِجارے کے، وَعلٰی ھٰذا الْقِیاس (یعنی اوراسی پر قِیاس کرتے ہوئے ) ہر مسلمان عاقِل و بالِغ مردو عورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عَین ہے۔ اِسی طرح ہر ایک کیلئے مسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنا فرض ہے۔ نیز مسائلِ قلب (باطِنی مسائل) یعنی فرائضِ قَلْبِیہ (باطِنی فرائض) مَثَلاً عاجِزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہا اوران کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلاً تکبُّر، رِیاکاری ، حَسَد ، بدگمانی ، بغض و کینہ، شَماتَت (یعنی کسی کی مصیبت پر خوش ہونا) وغیرہا اور ان کا علاج سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ (تفصیلی معلومات کیلئے فتاوٰی رضویہ جلد23صفحہ 624مُلاحَظہ فرمائیے) مُہلِکات (مُہ۔لِ۔کات ) یعنی ہَلاکت میں ڈالنے والی چیزوں جیسا کہ وعدہ خِلافی ، جھوٹ ، غیبت، چُغْلی ، بُہتان، بدنِگاہی، دھوکا ، ایذاءِ مسلم وغیرہ وغیرہ تمام صغیرہ وکبیرہ گناہوں کے بارے میں ضَروری اَحکام سیکھنا بھی فرض ہے تاکہ اِن سے بچا جا سکے ۔
ڈرائیور و پسنجر (Driver & Passenger) ، میاں بیوی (Husband & Wife) ، والدین و اولاد (Parents & Children) ، بھائی بہن (Brother & Sister) ، پڑوسی ورشتے دار (Nighbour & Relative) ، قرض خواہ وقرضدار (Creditor & Indebted ) ، سُپروائزر وٹھیکے دار (Supervisor & Contractor) ، مزدور ومِعمار (Labourer & Mason) ، کِسان و زمیندار (Farmer & Landowner ) ، کِرائے پر لینے والا اور دینے والا (Lessee and Lessor) ، حاکم و محکوم (Master & Subjected) ، استاذ و شاگرد (Teacher & Pupil) ، ڈاکٹر و حکیم، مقیم و مُسافِر، قصّاب و ماہی گیر (Brute & Fisherman) ، چندہ کرنے والا اور چندہ دینے والا، مسجِد (Mosque) یا مدرَسہ (School) یا قبرستان (Graveyard) یا سماجی ادارے (Social Orgnisations) وغیرہ کے مُتَولّیان، جانور بیچنے والا اور پالنے والا، چرواہا (Shepherd) ، دھوبی (Laundry man) ، درزی (Tailor) ، بڑھئی (Carpenter) ، لوہار (Blacksmith) ، کاریگر (Fabricant) ۔ آخِر ُالذّکر پانچوں سے دُھلوانے، سِلوانے اور بنوانے والے وغیرہ وغیرہ ہرایک کیلئے اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق ضَروری مسائل جاننا فرضِ عین ہے۔شیطٰن کے اِس وَسوَسے پر ہرگز توجُّہ مت دیجئے کہ سیکھیں گے تو عمل کرنا پڑے گا بلکہ اِس حکم شَرْعِی کو ذِہن میں رکھ لیجئے کہ حسبِ حال فرض عُلوم نہ جاننا گناہ اور نہ جاننے کے سبب گناہ کر گزرنا گناہ در گناہ وحرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکر م سے عِلْمِ دین حاصل کرنے کا ایک بَہُت بہترین ذریعہ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں شِرکت بھی ہے، اجتِماع میں شِرکت کو معمول بنالیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے عِلْمِ دِین کے موتی ملیں گے، جَہالت کے اندھیرے دور ہوں گے اور زِنْدَگی عِلْم و عَمَل کی کِرنوں سے جھلملانے لگے گی۔
ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں سنّتوں کی تربیَّت کے لئے حلقوں کا بھی سلسلہ ہوتا جس میں سنَّتیں سیکھی اور سیکھائی جاتی ہیں، سنَّتیں سیکھنے سکھانے کی بھی کیا ہی فضیلت ہے۔ چنانچہ،
دو عالَم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار ، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: ’’ اے اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) !ہمارے خُلَفا پر رحم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع