دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jannat ka Raasta | جنّت کا راستہ

book_icon
جنّت کا راستہ

جرائم کی دُنیا سے واپسی

بھیرہ  (تحصیل بھلوال،  ضلع گلزارِ طیبہ سرگودھا) کے عَلاقے نصیرآباد کالونی میں مُقیم اسلامی بھائی کی تحریر کا خُلاصہ ہے کہ میں جَوانی کی دَہلیز پر قدم رکھتے ہی ایک سیاسی جماعت سے منسلک ہو گیا اور ۱۴۰۶ھ بمطابق1985ء میں روزگار کے سلسلہ میں اپنے شہر کے بس اسٹینڈ  (لاری اَڈّے)  پر بطورِ اسٹینڈ منیجر  (Stand Manager)  کام کرنے لگا۔ یہ حقیقت ہے کہ

صُحْبَتِ صَالِح تُرَا صَالِح کُنَدْ

صُحبَتِ طالِح تُرَا طالِح کُنَدْ

یعنی اچھّوں کی صحبت اچھّا اور بروں کی صحبت برا بنا دیتی ہے۔  چنانچہ مجھے جن کی صحبت ملی وہ اچھے لوگ نہ تھے،  نتیجۃً ان کی بُرائیاں میرے اندر بھی اَثَر جمانے لگیں،  فِلَمیں ڈرامے دیکھنا،  گالی گلوچ کرنا اور دوسروں کو اپنے بے جا رُعب و دَبْدَبہ سے خوفزدہ کرنا میرا مَعْمُول بن گیا۔ وَقْت کے ساتھ ساتھ میری بے باکیاں بڑھنے لگیں یہاں تک کہ میں ایک قَبْضہ گروپ میں شامل ہو گیا جو ظَالِم و بَااَثَر لوگوں کا آلۂ  کار بن کر اَسْلِحے کے زور پر سرِعام لوگوں کی زمینوں اور جائیداد پر ناجائز قبضے،  مارپیٹ اور ظُلْم و زِیَادَتی جیسے جرائم میں ملوث تھا۔ ۱۴۱۰؁ھ  بمطابق  1989؁ء میں مجھے ایک سرکاری محکمے میں مُلازمَت مل گئی۔ یہاں میری تَنْخواہ 3000  (تین ہزار)  تھی لیکن رِشْوَت اور دِیگر ناجائز ذرائع کے ذریعے ماہانہ دس ہزار تک کمالیتا۔ محکمے میں اپنا سکّہ چلتا تھا،  ہر کوئی خوف کے مارے جی حُضوری پر مَجْبور تھا۔ پھر میں محکمانہ الیکشن میں یونین کا صدر بھی منتخب ہو گیا۔ اب تو میری چاندی ہو گئی،  جو جی میں آتا کر ڈالتا،  یہاں تک کہ ایک جرم کی پاداش میں گرفتار ہوا اور تین سال قیدِ بامُشَقَّت کاٹنی پڑی۔رِہائی کے بعد سُدھرنے کے بجائے میں نے دوبارہ وہی حرکتیں شروع کر دیں۔ چُنانْچہ کئی مرتبہ جیل کی ہوا کھائی اور مجھ پرکئی مُقَدِّمے قائم ہو گئے۔ افسوس! میری زِنْدَگی کے قیمتی لمحات آخِرَت کو برباد کر دینے والے کاموں میں صَرْف ہو رہے تھے۔ گناہوں کی لذّت میں ایسا منہمک تھا کہ نیک کام کرنے کا خیال بھی نہ آتا۔

شاید اسی طرح گناہ کرتے کرتے میں قبر میں اُتر جاتا اور اپنے کرتوتوں کا بدلہ پاتا مگر میرے پَرْوَرْدِگار عَزَّ  وَجَلَّکی طرف سے مجھے سنبھلنے کی توفیق یوں ملی کہ محلہ شیش محل میں میری مُلاقات ایک دُبلے پتلے،  سرتاپا سنّتوں  کے پیکر مبلغِ دعوتِ اسلامی سے ہوئی،  انہوں نے مسکراتے ہوئے پُرتپاک انداز میں مجھ سے مُصافَحہ کیا،  خیریت دریافت کی اور مَحبَّت  بھرے انداز میں تَبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک  ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘  کا تَعارُف پیش کیا اور بھیرہ سطح پر محلہ پیر اعظم شاہ کی جامع مسجد تخت پَوش والی میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماع  میں شِرکت کی دعوت بھی پیش کی۔ ان سے مل کر دِل  خوش تو بَہُت ہوا مگر گناہوں کی سِیاہی دِل  پر ایسی چڑھ چکی تھی کہ فوری طور پر اجتِماع  میں شِرکت کا ذہن نہ بنا،  بہرحال ان کا دِل  رکھنے کے لئے ہاں میں سرہلادیا،  اجتِماع  کا دن آیا اور گزر گیا مگر میں نہ جا سکا۔ ایک بار پھر بازار سے گزرتے ہوئے انہی اسلامی بھائی سے سامنا ہوا تو انہوں نے بڑی مَحبَّت  سے میرا نام لے کر سلام کیا۔ میں بَہُت مُتَأَ ثِّر ہوا کہ انہیں ابھی تک میرا نام یاد ہے۔ دورانِ گفتگو پتا چلا کہ یہ مرکزالاولیا  (لاہور)  کے رہنے والے ہیں اور یہاں ایک سُنّی دَارُ الْعُلُوم میں عِلْمِ دِین کے حُصول کے لئے آئے ہیں۔ اس مُلاقات نے میرے دِل  پر گہرے نُقُوش چھوڑے۔ دِل  میں ان کے لیے مَحبَّت  کی ننھی ننھی کلیاں کھلنے لگیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے بڑی اپنائیت سے بتا یا کہ میں آپ کے محلہ نصیرآباد کی جامع مسجد میں نمازِ فجر میں ’’ درسِ فیضان سنّت ‘‘  دینے کے لیے آتا ہوں،  آپ بھی کرم فرمائیں اور تشریف لا یا کریں،  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ڈھیروں بھلائیاں حاصل ہوں گی۔ اِصْلاح ِاُمّت کے جَذبہ سے سرشار،  خُوشْ گُفْتَار،  عاشقِ سرکار کی یہ بات سن کر مجھے بَہُت احساس ہوا کہ افسوس! یہ گُزشتہ ایک سال سے مُسَلْسَل مجھے اجتِماع  میں شِرکت کی دعوت دے رہے ہیں مگر میں ایسا ڈھیٹ ہوں کہ ٹَسْ سے مَسْ نہیں ہوتا اور کتنی بڑی بات ہے کہ یہ تقریباً دو کلومیڑ دُور سے نیکی کی دعوت کے جذبے کے تحت میرے  مَحلّے میں آتے ہیں،  اس لیے مجھے کم از کم دَرْس میں تو شِرکت کرنی چاہیے۔ چنانچہ میں نے ہامی بھرلی اور کبھی کبھی دَرْس میں شِرکت کرنے لگا۔ یہ سِلْسِلَہ تقریباً دو سال تک جاری رہا،  درسِ فیضانِ سنّت میں شِرکت کی بَرَکت سے مجھے کافی دینی معلومات کے ساتھ ساتھ نیکیاں کرنے کا جَذبہ بھی ملا۔ یہ مجھے ہَفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماع  میں شِرکت کی دعوت دیا کرتے مگر میں ٹال دیتا۔ بالآخر ۱۴۱۷؁ ھ  بمطابق 1996؁ء  میں ان کے اِصْرار پر میں نے ہَفتہ وار اجتِماع  میں شِرکت کرنے کی پکی نیّت کر ہی لی لیکن میرے ذِہْن میں شیطان نے یوں رَنگ جَمایا کہ چلو اچھّا ہے اس تحریک سے مجھے کچھ تَحفُّظ مِل جائے گا،  میں نے طرح طرح کی دُشمنیاں مُول لی ہوئی ہیں،  ان سے بچت ہو جائے گی۔ بہرحال میں سنّتوں  بھرے اجتِماع میں جا پَہُنْچا۔ دیکھا تو وہی اسلامی بھائی جو مجھ پر تقریباً دو سال سے اِنْفِرادی کوشش کر رہے تھے جہنّم  کی ہولناکیوں کے بارے میں بیان فرما رہے تھے،  جہنّم  میں دی جانے والی سزاؤں کی تفصیل بیان کرتے کرتے ان عاشِقِ رسول پر ایسا خوفِ خدا طاری ہوا کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے،  ان کا بیان تاثیر کا تیر بن کر میرے دِل  میں پیوست ہو گیا،  ماضی کے کَرتُوت اور جرائم کی طویل فہرست میری آنکھوں کے سامنے آ کر مجھے ڈرانے لگی،  یہ سوچ کر دِل  کی دھڑکنیں بے ربط ہو گئیں کہ اگر مجھے جہنّم  کے عذابات میں مبتلا کر دیا گیا تو کیونکر برداشت کر سکوں گا؟ بے اختیار میرے رخساروں پر آنسوؤں کی لڑی بن گئی،  دِل  کا میل دُھلنے لگا،  نیک بننے کی خواہش دِل  میں جگہ پانے لگی۔ ذِکْر و دُعا اور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن