30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فضیلت دی ۔ مجھے ایسا کلام بخشا جس کی عبارت کم ہوتی ہے اور معانی کثیر ،اور ایسا کلام جو فصاحت و بلاغت میں نہایت کو پہونچا ہوا ہے ، رموز واسرار اور علم وحکمت کو کھولنے والا ، مقاصد و مطالب کو بخوبی بیان کرنے والا ۔ مجھے تمام لوگوں کی طرف بشارت دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا، دشمن کے دل میں میرا رعب ایک ماہ کی مسافت سے ہی ڈال دیا جاتا ، میرے لئے مال غنیمت حلال کر دیا گیا جو مجھ سے قبل کسی کے لئے حلال نہ ہوا، تمام روئے زمین میرے لئے پاکی کا ذریعہ اور نماز پڑھنے کی جگہ بنادی گئی ۔
حضور فرماتے ہیں : پھر مجھ پر پچاس وقت کی نمازیں فرض فرمائیں ، جب حضور کا گزر واپسی میں حضرت موسی علیہ الصلوٰۃ و السلام کے پاس سے ہوا تو آپ نے عرض کیا : آپ پر کیا لازم کیا گیا :ـ فرمایا: پچاس نمازیں ، یہ سن کر حضرت موسی علیہ الصلوٰۃ و السلام نے گزارش کی ، آپ اپنے رب کے حضور جائیے اور اس میں کچھ تخفیف کرائیے کہ آ پکی امت تما م امتوں میں ناتواں امت ہے ،میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو اس سلسلہ میں آزمالیا ہے ، حضور یہ سن کر اپنے رب کے حضور آئے اور تخفیف کے طالب ہوئے ، لہذا دس نمازیں معاف کر دی گئیں ، پھر جب حضرت موسی کے پاس آئے تو آپ نے پھر وہی بات کہی ، حضور پھر واپس ہوئے اور اس مرتبہ بھی دس نمازیں معاف ہوئیں ، پھر جب واپسی میں ملاقات ہوئی تو حضرت موسی علیہ الصلوٰۃ و السلام نے عرض کیا: اب کتنی نمازیں باقی ہیں ؟ فرمایا : تیس نمازیں ، آ پنے پھر وہی عرض کیا ، حضور پھر بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو ئے اور تخفیف کے طالب ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں اور معاف فرما دیں پھر ملاقات پر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے مزید تخفیف کا مشورہ دیا ،آپ نے بارگاہ خدا وند قدوس میں حاضر ہو کر تخفیف چاہی اور دس نماز یں پھر معاف کر دی گئیں، حضرت موسی علیہ السلام کا مشورہ اب بھی یہ ہی ہوا، کہ مزید تخفیف کرائیے آپ کی امت اس بوجھ کو اٹھا نہیں سکے گی۔ آپ اس مرتبہ نہایت ندامت و شرمندگی کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوئے اور تخفیف کے طالب ہوئے ،اس مرتبہ پانچ نمازیں معاف ہوئیں ، لیکں حضرت موسی کا مشورہ یہ تھاکہ آپ پھر اپنے رب کے حضور جائیے اور تخفیف کرائیے ، حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس مرتبہ نہایت شرمندگی کے عالم میں حاضر ہواتھا اب میں مزیدتخفیف کے لئے جانے سے قاصر ہوں ، ندا ہوئی ، آپ نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع