30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا : اللہ تعالیٰ نے ان کو مقام رفیع عطا فرمایا: پھر پانچویں آسمان پر وہی معاملہ در پیش رہا ، یہاں حضرت ہارون علیہ الصلوٰۃ و السلام سے ملاقات ہوئی ، آپ بنو اسرائیل کو جمع کر کے واقعات سنا رہے تھے ۔ پھر چھٹے آسمان پر اسی تفصیل کے بعدحضرت موسی علیہ الصلوٰۃ و السلام سے ملاقات ہوئی ، آپ جب آگے گزر گئے تو حضرت موسی نے گریہ فرمایا ، حضور نے وجہ دریافت کی تو حضرت جبرئیل بولے : بنو اسرائیل یہ سمجھتے تھے کہ میں اولاد آدم میں اللہ کے یہاں سب سے مکرم و معزز ہوں اور یہ شخص تو مجھ سے بھی دنیاو آخرت میں سبقت لے گیا ، اگر یہ فضیلت ان کی ذات ہی کو ہے توکوئی پرواہ نہیں ،لیکن ہر نبی کے ساتھ اس کی امت بھی ہو گی ۔ پھر ساتویں آسمان پر عروج فرمایا ، وہاں ایک ایسے صاحب سے ملاقات ہوئی جن کی داڑھی کھچڑی تھی ، جنت کے دروازہ پر کرسی پر تشریف فرما تھے ، ان کے پاس نہایت روشن چہرے والے لوگ بھی جن کی سفیدی کاغذ کے مثل تھی ، اور ایک گروہ ایسا بھی تھا جن کے رنگوں میں کچھ بھدا پن تھا ، یہ لوگ اپنے مقام سے اٹھ کر ایک نہرمیں غسل کے لئے داخل ہوئے ، جب وہاں سے نکلے تو ان کا رنگ کچھ کھل گیا تھا ، پھر دوسری نہر میں داخل ہو گئے ، اس مرتبہ نکلے تو رنگ خوب صاف ہو گیا تھا ، لیکن پھر تیسری نہر میں نہائے تو ان کے چہروں کی روشنی ان کے ساتھیوں کی طرح ہوگئی اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ آکر بیٹھ گئے ، حضور نے فرمایا: اے جبرئیل یہ کھچڑی داڑھی والے کون ہیں ؟ اور یہ روشن چہروں والے ؟ اور پھر ان کے ساتھ غسل کر کے بیٹھنے والے کون ہیں ؟ اور یہ نہریں کونسی ہیں ؟ عرض کیا : یہ بزرگ تو آپ کے والد مکرم حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام ہیں ، دنیا میں سب سے پہلے اپ کی ہی داڑھی کھچڑی ہوئی ، اور یہ روشن چہروں والے وہ صاحب ایمان ہیں جنہوں نے ایمان کی حالت میں کبھی ظلم نہیں کیا ، اورباقی دوسرے لوگ گنہگار ہیں لیکن توبہ کر کے مرے ، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قول فرمائی ، اور یہ نہریں اس طرح ہیں کہ پہلے
رحمت کی نہر ہے ، دوسری نعمت کی ، اور تیسری شراب طہور کی ۔
پھر حضور صاحب معراج صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سدرۃ المنتہی پر تشریف فرماہوئے ، عرض کیا گیا : یہ بیری کا درخت ہے ، یہاں ہر ایک کی انتہاء ہے آپ کی امت اور آ پ کے سوا ، یہ ایسا درخت ہے کہ اس کی جڑ میں نہریں رواں ہیں جن کا پانی کبھی بودار نہیں ہوتا ، اور دودھ کی نہریں جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا ، اور شراب کی نہریں جس کے پینے سے لذت حاصل ہوتی ہے ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع