30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مریم و روح منہ ، وکلمت الناس فی المہد صبیا ، اشفع لنا ، الا تری الی ما نحن فیہ فیقول عیسی علیہ السلام : ان ربی قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ ، و لن یغضب بعدہ مثلہ ، و لم یذکر ذنبا، نفسی نفسی نفسی ، اذہبوا الی غیری ، اذہبوا الی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، فیاتون محمدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فیقولون : یا محمد ! انت رسول اللہ و خاتم الانبیاء و قد غفر اللہ لک ما تقدم من ذنبک و ما تاخر ، اشفع لنا الی ربک، الا تری الی ما نحن فیہ ، فأنطلق فاٰتی تحت العرش فاقع ساجدا لربی ، ثم یفتح اللہ علی من محامدہ و حسن الثناء علیہ شیٔا لم یفتحہ علی احد قبلی ثم یقال : یا محمد ! ارفع راسک ، سل تعطہ ، واشفع تشفع فارفع راسی فاقول: امتی یا رب ! امتی یا رب ! امتی یا رب! فیقال : یا محمد! ادخل من امتک من لا حساب علیہم من الباب الایمن من ابواب الجنۃ و ہم شرکاء الناس فیما سواء ذالک من الابواب، ثم قال: و الذی نفسی بیدہ! ان ما بین المصراعین من مصار یع الجنۃ کمابین مکۃ و حمیر، اوکما بین مکۃ وبصری ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھنا ہوا گوشت پیش کیا گیا، اس میں سے ایک دست حضور کی خدمت پیش ہوئی کیونکہ دست کا گوشت حضور کو پسند تھا ۔ لہذا آپ نے اس میں سے کچھ تناول فرمایا اور اس کے بعد نگاہ نبوت سے نوازنا شروع کیا کہ قیامت کے روز میں سب لوگوں کا سردار ہوں ۔ کیا تم اس کی وجہ جانتے ہو سنو ! اگلے پچھلے سارے انسانوں کو ایک ہی میدان میں جمع کیا جائے گا جو ایسا ہوگا کہ پکارنے والے کی آواز سن سکیں گے اور سب کو دیکھ سکیں گے ۔ اور سورج لوگوں کے اتنا قریب آجائے گا کہ گرمی کی شدت سے تڑپنے لگیں گے اور وہ نا قابل بر داشت ہو جائے گی تو لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم اپنی حالت نہیں دیکھتے ، پھر تم ایسی ہستی کو تلاش کیوں نہیں کرتے جو تمہارے رب کے پاس تمہاری شفاعت کرے ۔ چنانچہ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ تمہیں حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں جانا چاہیئے ۔پس وہ حضرت آدم علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں ، آپ کو اللہ تعالی نے اپنے دست خاص سے بنایا ، آپ کے اند ر اس نے اپنی جانب سے برگزیدہ روح ڈالی ا ور اس نے فرشتوں کو حکم فرمایا : تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا ۔لہذا اپنے رب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع