30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جن لوگوں کے لئے ہوا ہے وہ بہت کم ہیں ، پھر اس طائفہ قلیلہ سے یہ کیا ضرور ہے کہ ہر شخص یا اکثر اس معجزے کو روایت کرتے، ہم نہیں تسلیم کرتے کہ مجرد خرق عادت باعث تو فروداعی نقل جمیع یا اکثر حاضرین ہے۔
خادم حدیث پر کالشمس فی نصف النہار روشن کہ صد ہا معجزات قاہرہ حضور سے غزوات و اسفارو مجامع عامہ میں واقع ہوئے کہ سینکڑوں ہزاروں آدمیوں نے ان پر اطلاع پائی مگر ان کی ہم تک نقل صرف آحا سے پہنچی ۔
واقعہ ٔ حدیبیہ میں انگشتان اقدس سے پانی کا دریا کی طرح جوش مارنا اور چودہ پندرہ سو آدمی کا علی اختلاف الروایات اسے پینا اور وضو کرنا اور بقیہ توشہ کو جمع کر نا اور اس سے لشکر کے سب برتن بھر دینا اور اسی قدر باقی بچ رہنا، ایسے معجزات میں ہیں اور بالضرور چودہ پندرہ سو آدمی سب کے سامنے اس کا وقوع ہوا اور سب نے اس پر اطلاع پائی مگر ان میں سے چودہ نے بھی اسے روایت نہ فرمایا۔
فقیر نے کتب حاضرہ ٔ احادیث خصوصاً وہ کتابیں سیرو فضائل کی جن کا موضوع ہی اس قسم کی باتوں کا تذکرہ ہے مانند شفائے قاضی عیاض و شرح خفا جی و مواہب لدنیہ و شرح زرقانی و مدارج النبوۃ و خصا ئص کبری علامہ جلال الدین سیوطی وغیرہ مطالعہ کیں ، پانچ سے زیادہ راوی اس واقعے کے نہ پائے ، اسی طرح رد شمس یعنی غروب ہو کر سورج کا لوٹ آنا اور مغرب سے عصر کا وقت ہوجانا جو غز وۂ خیبر میں مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے لئے واقع ہوا کیسی عجیب بات ہے کہ عدم ظل کو اس سے اصلاً نسبت نہیں اور اس کا وقوع بھی ایک غزوہ میں ہوا کما ذکرنا اور تعداد لشکر خیبر کی سولہ سو ، بالضرور یہ سب حضرات اس پر گواہ ہوں گے کہ ہر نمازی مسلمان خصو صاً صحابہ کرام کو بہ غرض نما ز آفتاب کے طلوع و غروب و زوال کی طرف لا جرم نظر ہو تی ہے ۔
تو رات میں وصف اس امت مرحومہ کا رعاۃ الشمس کیساتھ وارد ہوا ،کما رواہ ابو نعیم عن کعب الاحبار عن سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام یعنی آفتاب کے نگہبان کہ اس کے تبدل احوال اور شروق و افول وزوال کے جو یاں وخبر گیراں رہتے تھے ، جب آفتا ب نے غروب کیا ہوگا بالضرور تمام لشکر نے نماز کا تہیہ کیا ہوگا ، دفعۃ شام سے دن ہوگیا اور
خورشید الٹے پاؤں آیا ، کیا ایسے عجیب واقعہ کو دریافت نہ کیا اور نہ معلوم ہوا ہوگا کہ اس کے حکم سے لوٹا ہے جسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع