30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلوا ظہری للملائکۃ ۔ میری پیٹھ فرشتوں کے لئے چھوڑ دو،
با لجملہ ہماری اس تقریر سے جو بالکل وجد انیات پر مشتمل ہے کہ کوئی شخص اگر مکابرہ نہ کرے بالیقین اس کا دل ان سب کیفیات کے صدق پر گواہی دے بخوبی ظاہر ہو گیا کہ ظاہراً اکثر صحابہ کرام کا خیال اس طرف نہ گیا اور اس معجزے کی انہیں اطلاع نہ ہوئی اور اگر بر سبیل تنزل ثابت ومبرہن ہو جانا نہ مانئے تو ان تقریروں کی بنا پر یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ عدم اطلاع کااحتمال قوی ہے، قوت بھی جانے دو اتنا ہی سہی کہ شک واقع ہو گیا ، پھر یہی استدلال منکر کہ اگر ایسا ہو تا تو مثل حدیث ستون حنانہ مشہور و مستفیض ہوتا ، کب باقی رہا ، خصم کہہ سکتا ہے
کہ ممکن ہے عدم شہرت بسبب عدم اطلاع کے ہو ۔کما ذکرنا و با للہ التوفیق۔
مقدمۂ ثالثہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہماری تنقیح سابق سے لازم نہیں آتا کہ بالکل کسی کو اس معجزے پر اطلاع نہ ہو اور کوئی اسے روایت نہ کرے ، صغیر السن بچوں کو بعض اوقات اس قسم کی جرائتیں حاصل ہوتی ہیں اور وہ اسی طریقہ سے جو ہم نے مقدمہ ثانیہ میں ذکر کیا ادراک کر سکتے ہیں اسی سبب سے اکثر احادیث حلیہ شریفہ ہند ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشتہر ہوئیں نہ اکابر صحابہ سے ،
ترجمہ ابن ابی ہالہ میں علامہ خفاجی فرماتے ہیں ۔
وکان ربیب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اخا لفاطمۃ وخال الحسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہم فکان لصغرہ یتشبع من النظر لرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ویدیم النظر لوجہہ لکونہ عندہ داخل بیتہ فلذااشتہر وصف النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عنہ دون غیرہ من کبار الصحابۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم فانہم لکبرہم کانوا یہا بون اطالۃ النظر الیہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فاحاط بہ نظرہ احاطۃ الہالۃ بالبدر و الا کمام بالتمر ہنیئا لہ مع ان ماقالہ قطرۃ من بحر ۔
اور ہر ذی علم جانتا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما زمانۂ نبوت میں صغیر السن تھے اور ان کا شمار بہ اعتبار عمر اصاغر صحابہ میں ہے اگر چہ بہ برکت سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقاہت میں اکثر شیوخ صحابہ پر مقدم تھے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع