30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی نگاہ پڑ جائے
اور نفس اسے یاد رکھے یہاں تو جب تک خیال نہ کیا جائے علم عدم حاصل نہ ہوگا ،آدمی جب ایسے مقام رعب وہیبت اور قلب کی مشغولی و مشغوفی میں ہوتا ہے تو کسی چیز کی عدم روئیت سے اس کے عدم پر استدلال نہیں کرتا اور جب اذہان میں بنا بر عادت اس کا عموم و شمول متمکن ہوتا ہے تو بر خلاف عادت اس کے معدوم ہونے کی طرف خیال نہیں جاتا بلکہ اس سے اگر تفتیش کے جائے اور اس امر کی طرف خیال دلایا جائے تو خواہ مخواہ اس کا گمان اس طرف مسارعت کرتا ہے کہ جب یہ امر عام ہے تو ظاہراً یہاں بھی ہوگا ، میرا نہ دیکھنا کچھ نہ ہونے پر دلیل نہیں ، میری نظر میں نہ آنا اس وجہ سے تھا کہ اول میری نگاہ ادھر ادھر نہ اٹھتی تھی اور جو اٹھی بھی تو ہزار رعب وہیبت اور نفس کے امور دیگر کی طرف صرف ہمت کے ساتھ ایسی حالت میں کیسے کہہ سکوں کہ تھا کہ نہ تھا ۔
ثم اقول ۔یہ کیفیت تو اس وقت کی تھی جب صحابہ کرام حضورسے ملاقی ہوتے اور جو ہمراہ رکاب سعادت انتساب ہوتے تو وہاں باوجود ان وجوہ کے ایک وجہ اور بھی تھی کہ غالباوقات صحابہ کرام کو آگے چلنے کا حکم ہوتا اور حضور ان کے پیچھے چلتے ۔
ترمذی نے شمائل کی حدیث طویل میں حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ’’یسوق اصحابہ‘‘ یعنی حضور والا صحابہ کرام کو اپنے آگے چلاتے ، امام احمد نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ؛
مارأیت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یطأ عقبہ رجلان ۔
حاصل یہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو نہ دیکھا کہ دو آدمی بھی حضور
کے پیچھے چلے ہوں ۔
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ۔
کان اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یمشون امامہ و یکون ظہرہ للملائکۃ
اصحاب نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آگے چلتے او پشت اقدس فرشتوں کے لئے چھوڑتے ۔
دارمی نے بہ اسناد صحیح مرفوعا روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع