30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے عمل حبط ہو جاتے ہیں ،انہیں نام لے کر پکارنے والے سخت
سزائیں پاتے ہیں ،اپنے جا ن و مال کا انہیں مالک جانو ،ان کے حضور زندہ بدست مردہ ہو جاؤ، ہمارا ذکر ان کی یاد کے ساتھ ہے، ان کا ہاتھ بعینہ ہمارا ہاتھ ہے ، ان کی رحمت ہماری مہر ، ان کا غضب ہمارا قہر ، جس قدر ملازمت زیادہ ہو تی حضور کی عظمت و محبت ترقی پاتی اور وہ حال مذکور یعنی خشوع و خضوع و رعب ہیبت روز افزوں کرتی قال تعالیٰ زادتہم ایمانا اور ایمان حضور کی تعظیم اورمحبت کا نام ہے کما لا یخفی ۔
مقدمۂ ثانیہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پر ظاہر کہ آدمی بلاوجہ کسی بات کے درپے تفتیش نہیں ہوتا اور جو بات عام و شامل ہوتی ہے اور تمام آدمی اس میں یکساں کسی شخص میں بالقصد اس کی طرف غور نہیں کرتا ،مثلا ً ہر ہاتھ کی پانچ انگلیاں ہونا ایک امر عام ہے لہذا بلا سبب کسی آدمی کی انگلیوں کو کوئی شخص اس مقصد سے نہیں دیکھتا کہ اس کی انگلیاں پانچ ہیں یا کم ،ہاں پہلے سے سن رکھا ہو کہ زید کی انگلیاں چار ہیں یا چھ تو اس صورت میں البتہ بقصد مذکور نظر کی جائے گی، اسی طرح سایہ ایک امر عام شامل ہے اگر بعض آدمیوں کا سایہ پڑتا اور بعض کا نہیں تو البتہ بیشک خیال جانے کی بات تھی کہ دیکھیں حضور کے بھی سایہ ہے یا نہیں، نہ اس سے کوئی امر دینی مثل اتباع واقتداء کے متعلق تھا کہ اس کے خیال سے با لقصد اس طرف لحاظ کیا جاتا ، ہاں ایسی صورت میں ادراک کا طریقہ یہ ہے بے قصد و توجہ خاص نظر پڑ جائے اور وہ صورت بعد تکرار مشاہدہ ذہن میں منقش اور مثل مربیات قصد یہ کہ خزانہ خیال میں مخزون ہو جائے، مثلا ًزید کہ ہمارا دوست ہے ہم اپنے مشاہدے کی رو سے بتا سکتے ہیں کہ اس کے ہر ہاتھ کی انگلیاں پانچ ہیں اگر چہ ہم نے کبھی اس قصد سے اس کے ہاتھوں کو نہیں دیکھا ہے مگر ہم نے اس کے ہاتھو ں کو بارہا دیکھا ہے ، وہ صورت خزانہ میں محفوظ ہے نفس اسے اپنے حضور حاضر کر کے بتا سکتا ہے لیکن ہم مقدمہ اولی میں ثابت کر آئے ہیں کہ یہ طریقہ ادارک وہاں معدوم تھا کہ رعب و ہیبت اور امور مہمہ کی طرف توجہ اور حضور کے استماع اقوال و مطا لعہ افعال ہمہ تن صرف ہمت اور نگاہ کا بسبب غایت ادب و خوف الہی کے اپنے زانو و پشت پا سے تجاوز نہ کرنا ، اس ادراک بلا قصد سے مانع قوی تھا علی الخصوص کسی شیٔ کا عدم کہ وہ تو کوئی امر محسوس نہیں جس پر بے ارادہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع