30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوغافل بکریو! اس احاطہ کے اندر نہ چرنا ،تمہارا دشمن بھیڑیا کہ عبارت شیطان سے ہے اسی جنگل میں رہتا ہے ،یہاں کی گھاس اس وقت کی نظر میں تمہیں ہری ہری دوب ،لہکتی لہلہا تی نظر آتی ہے ،مگر خبردار ! اس میں بالکل زہر بھراہے ، اب اس مرغزار کی گھاس تین قسم کی ہوگئی ،کچھ سب کو معلوم ہے کہ اسی قطعہ کی ہے جس میں زہرہے ، اور کچھ اس ٹکڑے سے بہت دور ہے جسے ہم یقینی اپنے حق میں نافع یاضرر سے خالی جانتے ہیں ،اور جو کچھ اس پہلے خٰطہ کے آس پاس رہ گئی اس میں شبہ ہے ،کیا جانئے شاید اس میں کی ہو ۔ تو ہم میں سے جن کو اپنی جان پیاری اور ہوش وخرد کی پاسداری تھی انہوں نے تو اس تختہ کے دور ہی سے کوسوں کا طرارہ بھرا ، اور بھولی بھیڑیں اپنی نادانی سے یہ ہی کہتی رہیں : کہ ابھی تو وہ ٹکڑا نہیں آیا ہے ، ابھی تو دور معلوم ہوتاہے ،یہاں تک کہ خاص اس خطہ میں جاپڑیں اور زہر کی گھاس نے کام تمام کیا ۔ آدمی کو اگر پلاؤ کی رکابی دی جائے اور کہدیں : کہ اس کے خاص وسط میں روپیہ بھر جگہ کے قریب سنکھیا پسی ہوئی ملی ہے ، ڈرتے ڈرتے کناروں سے کھائے گا اور بجائے ایک روپیہ کے چار روپیہ کی جگہ چھوڑ دے گا ،کاش ایسی احتیاط جو اپنے بدن کی محافظت میں کرتاہے قلب کی نگاہ داشت میں بجالاتا۔
اے عزیز ! باشاہوں کا قاعدہ ہے ، ایک چراگاہ محصور کرلیتے ہیں کہ رعایا اس میں نہ چرانے پائیں ، عربی میں اسے حمیٰ کہتے ہیں ، خداو رسول کی سچی سلطنت ،قاہربادشاہت میں حمیٰ محرمات شرعیہ ہیں ، جسے اپنے دین وآبرو کا خیال ہے شبہات سے بچے گا ،کہ مبادا آس پاس چراتے چراتے خاص حمیٰ میں جاپڑے ،اور جو نہیں مانتے تو قریب ہے کہ انہیں ایک دن یہ واقعہ پیش آجائے ۔ فتاوی رضویہ حصہ اول ۹/۹
( ۳) مشکوک چیزوں کو چھوڑدو
۳۶۲۷ ۔عن الحسن المجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :دع مایریبک الی مالا یریبک ،فان الصدق طمانیۃ ،وان الکذب ریبۃ ۔
حضرت حسن مجتبی گل مصطفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۶۲۷۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب تفسیر المشتبہات ، ۱/ ۲۷۵
الجامع للترمذی، آخر ابواب القیامۃ ، ۲/ ۷۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع