30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آوازیں پست کر لیتے او ر آپ کی تعظیم کی وجہ سے آپ کی طرف نگاہ نہ کر پاتے تھے، تو وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ آیا اور کہا میں قیصر و کسری و نجاشی کے درباروں میں آیا مگر ایساکوئی بادشاہ نہ دیکھا جسکی
تعظیم اسکے ساتھی ایسے کرتے ہوں جیسی محمد کی ان کے صحابی کر تے ہیں ۔
اسی وجہ سے حلیہ شریف میں اکثر اکابر صحابہ سے حدیثیں وارد ہیں کہ وہ نگاہ بھر کر نہ دیکھ سکتے بلکہ نظر اوپر نہ اٹھا تے کما سیأتی ، بلکہ اس معنی میں کسی حدیث کے ورود کی بھی حاجت کیا تھی ، عقل سلیم خود گواہی دیتی ہے کہ ادنی ادنی نوابوں اور والیوں کے حاضرین دربار ان کے ساتھ کس ادب سے پیش آتے ہیں، اگر کھڑے ہیں تو نگاہ قدموں سے تجاوز نہیں کرتی ،بیٹھے ہیں تو زانو سے آگے قدم نہیں رکھتے ، خود اس حاکم سے نگاہ چار نہیں کرتے ،پس و پیش یا دائیں بائیں دیکھنا تو بڑی بات ہے حالانکہ اس ادب کو صحابہ کے ادب سے کیا نسبت،ایمان ان کے دلوں میں پہاڑ سے زیادہ گراں تھا اور دربار اقدس کی حضوری ان کے نزدیک ملک السمواٰت و الارض کا سا منا، اور کیوں نہ ہوتا کہ خود قرآن عظیم نے انہیں صدہا جگہ کان کھول کر سنا دیا کہ ہمارا اور ہمارے محبوب کا معاملہ واحد ہے ،اس کا مطیع ہمارا فرمانبردار ،اور اس کا عاصی ہمارا گنہگار، ان سے الفت ہمارے ساتھ محبت ،اور ان سے رنجش ہم سے عداوت ، ان کی تکریم ہماری تعظیم ، اور ان کے ساتھ گستاخی ہماری بے ادبی ، لہذا جب ملازمت والا حاصل ہوئی ، قلب ان کے خوف خدا سے ممتلی اور گردنیں خم اور آنکھیں نیچی اور آوازیں پست اور اعضاء ساکن ہو جاتے ہیں، ایسی حالت میں نظر ایں وآں کی طرف کب ہو سکتی ہے جو سایہ کے عدم یاوجود کی طرف خیال جائے اور بالضرور ایسے سراپا ادب ، ہمہ تن تعظیم لوگوں کی نگاہ اپنے عرش پائے گاہ کی طرف بے غرض مہم نہ ہوگی ، اس حالت میں نفس کو اس مقصود کی طرف توجہ ہوگی ، مثلاً نظا رہ جمال باکمال ، یا حضور کا مطالعہ افعال و اعمال ، تاکہ خود ان کا اتباع کریں اور غائبین تک روایت پہونچائیں کہ وہ حاملان شریعت اور راویان ملت اور حاضری دربار اقدس سے ان کی غرض اعظم یہی تھی ، جب نگاہ اس رعب و ہیبت اور اس ضرورت و حاجت کے ساتھ اٹھے تو عقل گواہ ہے کہ ایسی حالت میں ادھر ادھر دھیان نہیں جائے گا کہ قامت اقدس کا سایہ ہمیں نظر نہ آیا ، آخر نہ سنا کہ ایک ان کا نما ز میں مصروف ہونا ،تکبیر کیساتھ دونوں جہان سے ہاتھ اٹھانا ، کوئی چیز سامنے گزرے ،اطلاع نہ ہوتی اور کیسا ہی شور و غوغا ہو ، کان تک آواز نہ جاتی یہاں تک کہ مسلم بن یسار ، کہ تابعین میں ہیں نماز پڑھتے تھے مسجد کا ستون گر پڑا ، لوگ جمع ہوئے شور و غوغا ہوا، انہیں مطلق خبر نہ ہوئی ،یہی حالت صحابہ کی حضور رسالت میں تھی اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع