30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتے ہیں :۔
آدمیوں کی سانس سے فرشتے بنتے ہیں ، اوران میں قوی تر اور حیا میں زائد وہ ہوتے ہیں جوعورتوں کی سانس سے بنائے جاتے ہیں ۔ انفاس ناس سے فرشتے بننے کی تصریح فتوحات شریف میں بھی ہے ۔
یہ احادیث واقوال ہیں جن میں آفرینش ملائکہ کے متعدد طریقے مذکور ہوئے ،ان سے ثابت کہ ان کی پیدائش روز انہ جاری ہے ، ہرروز بے شمار بنتے ہیں جنکی گنتی ان کا بنانے والا ہی جانتا ہے ۔
میں کہتاہوں : قلثانی نے اس مقام پر ایک عجیب وغریب بات کہی : کہ زمین وفضا کے فرشتے عناصر اربعہ سے مرکب ہیں ،ان کے جسم ہیں کہ جن میں خون رواں ہوتاہے ۔
الیواقیت میں فرمایا : یہ قول بعض ہے اور شاید ان کی مراد یہ ہوکہ یہ جنات کی ایک نوع ہیں ، ان کا نام فرشتے رکھنا ان کی اپنی ایک اصطلاح ہے ۔
اسی طرح ایک روایت غریبہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے آئی کہ ایک نوع ملائکہ سے توالد کا سلسلہ بھی چلتا ہے جنکو جن کہاجاتاہے ،انہیں سے ابلیس بھی ہے ۔ ارشاد الساری ۔
لیکن واضح رہے کہ اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ملائکہ کے باب میں یہ ہے کہ وہ تذکیروتانیث اور سلسلہ توالد سے منزہ وپاک ہے ۔ ھدایۃ المبارکہ ۱۳
رہاان کی مو ت کا ہال ، امام ولی الدین عراقی سے اسلۂ مکیہ میں اس باب میں سوال ہو ا جواب فرمایا: لم یثبت فی ذالک شیٔ ولا یجوز الحجوم علیہ بمجرد الاحتمال ولا مجال للنظر فیہ دلا دخل للقیاس۔
اس باب میں کچھ ثابت نہ ہوا اور محض احتمال سے اس جرأت روا نہیں ۔ نہ نظر کی گنجائش نہ قیاس کا دخل۔
نقلہ العلامۃ الفاسی فی مطالع المسرات۔
بلکہ حضرت شیخ اکبر قدس سرہ تو انہیں مثل اروح مانتے ہیں کہ نہ تھے مگر جب ہوئے تو ہمیشہ رہیں گے، ارواح کو کبھی موت نہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع