30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فاحیی امہ و کذا اباہ لا یمان بہ فضلا لطیفا
نسلم فالقدیم بذا قدیر وان کان الحدیث بہ ضعیفا
حاصل یہ کہ مقاصد میں ہے وہ کیا خوب کہا ۔خدا نے نبی کو فضل پر فضل زیادہ عطا فرمائے اور ان پر نہایت مہربان تھا پس ان کے والدین کو ان پر ایمان لانے کیلئے زندہ کیا اپنے فضل لطیف سے ،ہم تسلیم کرتے ہیں کہ قدیم تو اس پر قدرت رکھتا ہے اگر چہ جو حدیث اس معنی میں وارد ہوئی ضعیف ہے ۔
اے عزیر! سنا تو نے ؟ یہ ہے طریقۂ اراکین دین متین و اساطین شرع متین رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم و محبت میں نہ یہ کہ جو معجزہ خاصہ حضور کا احادیث صحیحہ سے ثابت اور اکابر علماء بر ابر اپنی تصانیف معتبرہ و مستندہ میں جن کا اعتبار و استنادآفتاب نیمروز سے روشن تر ہے ، بلا نکیرو منکر ا س کی تصریح کرتے آئے ہوں اور اس کے ساتھ عقل سلیم نے ان پر وہ دلائل ساطعہ قائم کئے ہوں جن پر کوئی حرف نہ رکھ سکے بایں ہمہ اس سے انکار کیجئے اور حق ثابت کے رد پر اصرار ، حالانکہ نہ ان حدیثوں میں کوئی سقم مقبول و جرح معقول وارد نہ ان ائمہ کے مستند با دلائل معتمد ہونے میں کلام کر سکو ، پھر اس مکابرہ کج بحثی اور تحکم و زبردستی کا کیا علاج ،زبان ہر ایک کی اس کے اختیار میں ہے چاہے دن کو رات کہہ دے یا شمس کو ظلمات۔
آخر تم جو انکار کرتے ہو تو تمہارے پاس بھی کوئی دلیل ہے؟ یا فقط اپنے منہ سے کہہ دینا ،اگر بفرض محال جو حدیثیں اس باب میں وارد ہوئیں نامعتبر ہوں اور جن جن علماء نے اس کی تصریح فرمائی انہیں بھی قابل اعتماد نہ مانو اور جو دلائل قاطعہ اس پر قائم ہوئے وہ بھی صالح التفات نہ کہے جائیں ، تاہم انکار کا کیا ثبوت اور وجو د سایہ کا کس بنا پر ، اگر کوئی حدیث اس بارے میں آئی ہو تو دکھاؤ یا گھر بیٹھے تمہیں الہام ہو ا ہو تو بتاؤ ، مجرد ما ومن پر قیاس تو ایمان کے خلاف ہے ۔
ع چہ نسبت خاک را باعالم پاک
وہ بشر ہیں مگر عالم علوی سے لاکھ درجہ اشرف و احسن، وہ انسان ہیں مگر ارواح و ملائکہ سے ہزار درجہ الطف ۔وہ خود فرماتے ہیں :’’ لست مثلکم ‘‘ میں تم جیسا نہیں رواہ الشیخان، و یروی لست کہیئتکم ، میں تمہاری ہیئت پر نہیں ، ویروی ایکم مثلی ، تم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع