30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوگوں کی بھیڑ میں چلے گئے اور پتہ نہیں چلا کہ کہاں گئے ۔
راوی کہتے ہیں :کہ پھر وہ ایک موقع پر کوفہ تشریف لائے ۔ ہم ان کے حلقۂ ذکر میں شامل ہوئے ، جب وہ لوگوں کو نصیحت کرتے تو ان کی بات دل میں اس طرح بیٹھ جاتی کہ کسی دوسرے کی بات اتنی جاگزیں نہیں ہوتی تھی ، ایک دن میں نے ان کو نہ پایا تو میں نے اپنے ساتھی سے کہا وہ مرد کیا ہوئے جو ہمارے ساتھ حلقہ ذکر میں تشریف فرما ہوتے تھے ، شاید وہ بیمار ہو گئے ، ایک صاحب بولے وہ کون تھے؟ ۔ میں نے بھی کہا وہ کون تھے؟ اس پر انہوں نے کہا: وہ حضرت اویس قرنی تھے ، مجھے ان کی قیام گاہ بتائی گئی ، تو میں وہاں پہونچا ۔ میں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ۔ آپ کہا ں تھے اور ہمیں کیوں چھوڑ دیا ، فرمایا : میرے پاس چادر نہیں تھی ، اسلئے میں آپ لوگوں تک نہیں پہونچ سکا ، راوی کہتے ہیں ۔ میں نے اپنی چادر پیش کی انہوں نے میری طرف پھنک دی ۔ پھر میں نے تھوڑی دیر خلوت میں گفتگو کی تو فرمایا : اگر میں تم سے یہ چادر لے لیتا تو میری قوم دیکھ کر کہتی ، دیکھو اس ریاکار کو کہ فلاں کے ساتھ لگا رہا یہاں تک کہ اس کو فریب دیکر اس سے چادر لے لی ۔ پھر میں ان سے اصرار کرتا رہا یہاں تک کہ وہ چادر انہوں نے قبول فرما لی ۔ میں نے عرض کیا : آپ چلئے تاکہ میں دیکھوں کہ آپ کی قوم کے لوگ کیا کہتے ہیں ۔ انہوں نے وہ چادر اوڑھ لی ، پھر ہم نکل کر ان کی قوم کے پا س سے گزرے تو وہ لوگ کہنے لگے: دیکھو اس ریاکار کو کہ اس مرد کے ساتھ لگا رہا یہاں تک کہ فریب دیکر اس سے چادر لے لی۔ یہ سنکر میں ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور میں نے کہا: کیا تمہیں شرم نہیں آتی ۔ کیوں تم ان کو تکلیف پہونچا رہے ہو ، خدا وند قدوس کی قسم میں نے یہ چادر ان کو پیش کی تھی تو انہوں نے قبول کرنے سے ا نکار کر دیا تھا ۔( اب بہت اصرار کے بعد قبول کی ہے )راوی کہتے ہیں کہ عرب کے متعددقبائل وفد کی شکل میں حضرت عمر فاروق اعظم کے پاس آئے ، ا ن میں ان کی قوم کا سردا بھی تھا ۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا : کیا تم میں کوئی قرن کا باشندہ بھی ہے ؟ تو انہوں نے کہا ہاں میں ہوں ۔ فرمایا : کیا تم قرن کے اس شخص کو جانتے ہو جسکا نام اویس ہے اور ان کی یہ نشانیاں ہیں۔ تو انہوں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! آپ ان کے بارے میں کیسے جانتے ہیں ، حضرت عمر نے فرمایا: تمہیں تمہاری ماں روئے ۔ تم ان سے ملاقات کرو ۔ یہ جملہ دو یا تین مرتبہ فرمایا ۔ پھر فرمایا : کہ حضور نے ہم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع