30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فلا وجہ لا نکا رہ ۔
بقی بن مخلد ابو عبد الرحمن قرطبی نے کہا (رمضا ن ۲۰۱ھ تا ۲۷۶ھ ) عائشہ رضی اللہ
تعالیٰ عنہا سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تاریکی میں دیکھا کرتے تھے اور ایک روایت میں ہے جس طرح کہ روشنی میں دیکھتے تھے ، اس میں کچھ شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مل الخلقہ ، قوی الحواس تھے تو آپ سے اس کیفیت کا وقوع بعید نہیں پھر اس کو ثقات نے روایت کیا ہے لہذا اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں ۔
خامسا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ،اس سب سے زیادہ یہ ہے کہ باوجود حدیث شدید الضعف وغیر متمسک ہونے کے احیاء والدین ، وسعت قدرت و عظمت شان رسالت پناہی پر نظر کر کے گردن تسلیم جھکائی اور سوا سلمنا وصدقنا ، کچھ بن نہ آئی ۔
ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہو ا،حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب عقبہ حجون پر گزر ہوا ، حضور اشکبار و رنجیدہ ومغموم ہوئے ، پھر تشریف لے گئے جب لوٹ کر آئے چہرہ بشاش تھا اور لب تبسم ریز ،میں نے سبب پوچھا ، فرمایا : میں اپنی ماں کی قبر پر گیا اور خداسے عرض کیاکہ انہیں زندہ کردے ، وہ قبول ہوئی اور وہ زندہ ہو کر ایمان لائیں اور پھر قبر میں آرام کیا ۔
اخرج الخطیب عن عائشۃ الصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت : حج بنا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فمر بی عقبۃ الحجون وہو باک حزین مغتم ثم ذہب وعاد وہو فرح متبسم فسألت فقال ذہبت الی قبرامی فسألت اللہ ان یحییہا فأمنت بی وردہا اللہ ۔
امام جلال الدین سیوطی خصائص میں فرماتے ہیں ، اس کی سند میں مجاہیل ہیں اورسہیلی نے ام المؤمنین سے احیائے والدین ذکر کر کے کہا ، اس کے اسناد میں مجہولین ہیں اور حدیث سخت منکر اور صحیح کے معارض :
ففی مجمع بحار الانوار وح احی ابوی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حتی اٰمنا بہ قال فی اسناد ہ مجاہیل وانہ ح منکر جدا یعارضہ ما ثبت فی الصحیح ۔
بایں ہمہ اسی مجمع البحار میں لکھتے ہیں ؛
وفی المقاصد الحسنۃ وما احسن ما قال ۔
حبا اللہ النبی مزید فضل علی فضل وکان بہ رؤفا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع