30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
، اس کا راوی معلوم نہ ہوا اور باجود اس کے بلا نکیر اپنی کتابوں میں ذکر فرماتے آئے ۔
شفاء قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میں ہے ۔
و ان الذباب کان لا یقع علی جسدہ و لا ثیابہ ۔
مکھی آپ کے جسم اقدس اور لباس اطہرپر نہ بیٹھتی تھی ۔
امام علامہ جلا ل الدین سیوطی خصائص کبریٰ میں فرماتے ہیں ۔
باب ذکر القاضی عیاض فی الشفا ء والعراقی فی مولدہ ان من خصائصہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انہ کان لا ینزل علیہ الذباب وذکرہ ابن السبع فی الخصائص بلفظ انہ لم یقع علی ثیابہ ذباب قط وزاد ان من خصائصہ ان القمل لم تکن یوذیہ ۔
قاضی عیاض نے شفاء میں اور عراقی نے اپنے مولد میں ذکر کیا کہ حضور کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ مکھی آپ پر نہ بیٹھتی تھی ، ابن سبع نے خصائص میں ان لفظوں سے ذکر کیا کہ مکھی آپ کے کپڑوں پر کبھی نہیں بیٹھتی اور یہ بھی زیادہ کیا کہ جوئیں آپ کو نہیں ستاتی تھیں۔
شیخ ملا علی قاری شرح شمائل ترمذی میں فرماتے ہیں ۔
ونقل الفخر الرازی ان الذباب کان لا یقع علی ثیابہ و ان البعوض لایمتص دمہ ۔
رازی نے نقل کیا کہ مکھیاں آپ کے کپڑوں پر نہیں بیٹھتی تھیں اور مچھر آپ کا خون نہیں چوستے تھے ۔
علامہ خفاجی نے نسیم ا لریاض میں علماء کا وہ قول کہ اس کا راوی نہ معلوم ہوا ، نقل کیا ور اس خاصہ کی نسبت لکھا کہ ایک کرامت ہے کہ حق سبحانہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو عطا کی اور اپنے نتائج افکار سے ایک رباعی لکھی کہ اس میں بھی اس خاصہ کی تصریح ہے اور بعض علمائے عجم نے اسی بنا پر کلمہ محمد رسول اللہ کے سب حروف بے نقطہ ہوتے ہیں ایک لطیفہ لکھا کہ آپ کے جسم مبارک پر مکھی نہ بیٹھتی تھی ، لہذا یہ کلمہ پاک کلی نقطوں سے محفوظ رہا کہ وہ شبیہ مکھیوں کے ہیں ۔ پھر اسی مضمون پر دوسری عبارت ۔
عبارتہ برمتہ ، ومن دلائل نبوتہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان الذبا ب کان لا یقع علی ثیابہ ہذا مما قالہ ابن سبع الا انہم قالوا لا یعلم من روی ہذہ، والذباب واحدہ ذبابۃ قیل انہ سمی بہ لانہ کلما ذب اٰب ای کلما طرد رجع و ہذا مما اکرمہ اللہ بہ لانہ طہرہ اللہ من جمیع الا قذار و ہو مع استقذارہ قد یجییٔ من مستقذر قیل وقد نقل مثلہا عن ولی اللہ العارف بہ الشیخ عبد القادری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع