30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ساتھ کیا کر نا چاہئے ، نشر فضائل و تکثیر مدائح اور ان کی خوبی حسن سن کر باغ باغ ہوجانا ، جامے میں پھولانہ سمانا ،یا رد محاسن و نفی کمالات اور ان کے اوصاف حمیدہ
سے بہ انکار تکذیب پیش آنا ، اگرایک عاقل منصف بھی تجھ سے کہہ د ے کہ نہ وہ دوستی کا مقتضی نہ یہ غلامی کے خلاف تو تجھے اخیتار ہے ورنہ خدا و رسول سے شرما اور اس حرکت بے جا سے باز آ ،یقین جان لے کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خوبیاں تیرے مٹائے نہ مٹیں گی۔
جان برادر ! اپنے ایمان پر رحم کر ، خدائے قہار وجبار جل جلالہ سے لڑائی نہ باندھ ، وہ تیرے اور تمام جہاں کی پیدائش سے پہلے ازل میں لکھ چکا’’ ورفعنا لک ذکرک‘‘ یعنی ارشاد ہوتا ہے : اے محبوب ہمارے ہم نے تمہارے لئے تمہارا ذکر بلند کیا کہ جہاں ہماری یاد ہوگی تمہارا بھی چرچا ہوگا اور ایما ن بے تمہاری یاد کے ہر گز پورا نہ ہوگا ،آسمانوں کے طبقہ اور زمینوں کے پردے تمہارے نام نامی سے گونجیں گے، موذن اذانوں اور خطیب خطبوں اور ذاکرین اپنی مجالس اور واعظین اپنے منابرپرہمارے ذکر کے ساتھ تمہاری یاد کریں گے ، اشجاد و احجار ، آہو و سوسمار و دیگر جاندار و اطفال شیر خوارو معبودان کفار جس طرح ہماری تو حید بتائیں گے ویسا ہی بہ زبان فصیح و بیان صحیح تمہارا منشور رسالت پڑھ کر سنائیں گے ، چار اکناف عالم میں ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ (جل جلالہ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) کا غلغلہ ہوگا ، جزاشقیائے ازل ہرزرہ کلمہ شہادت پڑھتا ہوگا ، مسبحان ملاء اعلی کو ادھر اپنی تسبیح و تقدیس میں مصروف کروں گا ، ادھر تمہارے محمود ورود مسعود کا حکم دوں گا ، عرش و کرس، ہفت اوراق سدرہ ، قصور جناں ،جہاں پر اللہ لکھوں گا ، محمد رسول اللہ بھی تحریر فرماؤں گا ، اپنے پیغمبروں اور اولو العزم رسولوں کو ارشاد کروں گا کہ ہر وقت تمہارا دم بھریں اور تمہاری یاد سے اپنی آنکھوں کو روشنی اور جگر کو ٹھنڈک اورقلب کو تسکین اور بزم کو تزئین دیں جو کتاب نازل کروں گا اس میں تمہاری مدح و ستائش اور جمال صورت وکمال سیرت ایسی تشریح و توضیح سے بیان کروں گا کہ سننے والوں کے دل بے اختیار تمہاری طرف جھک جائیں اور نا دیدہ تمہارے عشق کی شمع ا ن کے کانوں، سینوں میں بھڑک اٹھے گی ۔ایک عالم اگر تمہارا دشمن ہو کر تمہاری تنقیص شان اور محو فضائل میںمشغول ہو تو میں قادر مطلق ہوں ، میرے ساتھ کسی کا کیا بس چلے گا ، آخر اسی وعدے کا اثر تھا کہ یہود صدہا برس سے اپنی کتابوں سے ان کا ذکر نکالتے اور چاند پرخا ک ڈالتے ہیں تو اہل ایمان اس بلند آواز سے ان کی نعت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع