30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ختنین (حضرت عثمان وعلی ) پر فضیلت کا کامل اعتقاد رکھنا چاہئے لیکن اس طور سے نہیں کہ حضرت عثمان وعلی کے فضائل کے بارے میں تیرے دل میں کوئی کمی واقع ہو ۔بلکہ ان کے اور اتمام صحابۂ کرام کے فضائل بشری عقل اور انسانی فکر سے بہت بلند ہیں ،رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔ پھر فرمایا: ۔
پس چوں اجماع صحابہ کہ انبیاء صفت اند بر تفصیل شیخین واقع شد ومرتضی نیز دریں اجماع متفق وشریک بود مفضلہ در اعتقاد خود غلط کردہ است اے خانمان مافدائے نام مرتضی ۔واے دل وجان مانثا راقدام مرتضی باد کدام بد بخت ازل کہ محبت مرتضی دردلش نہ باشد وکدام راندۂ درگاہ مولی کہ اہانت اوروادارد ،مفضلہ گمان بردہ است کہ نتیجۂ محبت بامرتضی تفصیل اوست بر شیخین ونمی داند کہ ثمرۂ محبت موافقت است بااو نہ مخالفت است کہ چوں مرتضی فضل شیخین وذی النورین رابر خٰود روا داشت واقتدابایشاں کرد وحکمہائے عہد خلافت ایشاں را امتثال فرمود شرط محبت بااو آں باشد کہ درراہوروش بااو موافق باشد نہ مخالف ۔جب انبیاء صفت صحابہ کرام کا شیخین کی فضیلت پر اتفاق ہے اور حضرت علی مرتضی بھی اس اجماع میں شریک ہیں لہذا مفضلہ (یعنی حضرت علی کو شیخین پر فضیلت دینے والوں ) کا یہ اعتقاد غلط ہے ۔ہمارا خاندان حضرت علی کے نام پر فدا ہو ہمارے دل وجان حضرت علی مرتضی کے قدموں پر نثار ہوں ۔کون ازلی بدبخت ہے جس کے دل میں حضرت علی مرتضی کی محبت نہ ہوگی اور کون مردوددرگاہ ان کی توہین روا رکھے گا ۔اہل تفضیل کا گمان ہے کہ حضرت علی مرتضی کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں شیخین پر فضیلت دی جائے اور یہ نہیں سمجھتے کہ محبت کا تقاضا ان کی موافقت ہے نہ مخالفت کہ جب علی مرتضی نے شیخین اور ذی النورین کی فضیلت اپنے اوپر جائز رکھی ،ان کی اقتدا کی ،ان کے عہد خلافت کے احکام کی تعمیل کی تو آپ کی محبت کی شرط یہ ہے کہ آپ کے طرزوطریق کی موافقت کی جائے نہ مخالفت ،۔
حضرت میر قدس سرہ المنیر نے یہ بحث پانچ ورق سے زائد میں افادہ فرمائی ہے ۔من طلب الزیادۃ فلیرجع الیہ۔
الحمد للہ یہ عقیدہ ہے اہلسنت وجماعت اور ہم غلامان دودمان زید شہید کا ،واللہ تعالیٰ اعلم ۔ فتاوی رضویہ ۱۱/۱۵۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع