30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قریب ہے، ٹھنڈی نسیموں کا پنکھا ہو رہا ہے، ہر ایک کا جی اس وقت آرام کی طرف جھکتا ہے، بادشاہ اپنے گرم بستروں نرم تکیوں میں مست خواب ناز ہے، اورجو محتاج
بے نوا ہے اس کے بھی پاؤں دو گز کی کملی میں دراز ، ایسے سہانے وقت میں ٹھنڈے زمانہ میں وہ معصوم بے گناہ پاک داماں عصمت پناہ اپنی راحت و آسائش کو چھوڑ ، خواب آرام سے منہ موڑ، جبین نیازا ٓستانۂ عزت پر رکھے ہے کہ الہی میری امت سیاہ کار ہے ، در گزر فرما اور ان کے تما م جسموں کو آتش دوزخ سے بچا ۔
جب وہ جان راحت کا ن رافت پیدا ہو ا ، بارگاہ الہی میں سجد ہ کیا اور’’ رب ہب لی امتی‘‘ فرمایا ، جب قبر شریف میں اتارا ، لب جاں بخش کو جنبش تھی، بعض صحابہ نے کان لگا کر سنا ، آہستہ آہستہ ’’امتی ‘‘ فرمارتے تھے ، قیامت کے روز کہ عجب سختی کا دن ہے ، تانبے کی زمین ، ننگے پاؤ ں،زبانیں پیاس سے باہر ،آفتاب سروں پر ،سایہ کا پتہ نہیں ، حساب کا دغدغہ ، ملک قہار کا سامنا ، عالم اپنی فکر میں گرفتارہو گا ،مجرمان بے یاردام آفت کے گرفتار ،جدھر جائیں گے سوا ’’نفسی نفسی اذہبوا الی غیری ‘‘کے کچھ جواب نہ پائیں گے ، اس وقت یہی محبوب غمگسار کام آئے گا ، قفل شفاعت اس کے زور بازو سے کھل جائے گا ، عمامہ سر اقدس سے اتاریں گے اور سر بسجود ہو کر’’ امتی‘‘ فرمائیں گے ۔
وائے بے انصافی ، ایسے غم خوار پیارے کے نام پر جان نثار کرنا اور مدح و ستائش و نشر فضائل سے اپنی آنکھوں کو روشنی اور دل کو ٹھندک دینا واجب ،یا یہ کہ حتی الوسع چاند پر خاک ڈالے اور ان روشن خوبیوں میں انکار کی شاخین نکالے۔
مانا کہ ہمیں احسان شناسی سے حصہ نہ ملا ، نہ قلب عشق آشنا ہے کہ حسن پسندیا احسان دوست ، مگر یہ تو وہاں چل سکے جس کا احسان اگر نہ مانییٔ ، اس کی مخالف کیجئے تو کوئی مضرت نہ پہنچے اور یہ محبوب تو ایسا ہے کہ بے اس کی کفش بوسی کے جہنم سے نجات میسر نہ دنیا و عقبی میں کہیں ٹھکانا متصور ، پھر اگر اس کے حسن و احسان پر والہ و شیدا نہ ہوتو اپنے نفع و ضرر کے لحاظ سے عقیدت رکھو ۔
اے عزیز! چشم خرد میں سرمہ انصاف لگا اور گوش قبول سے پنبہ ٔ انکارنکال ، پھر تمام اہل اسلام بلکہ ہر مذہب و ملت کے عقلاء سے پوچھتا پھر کہ عشاق کا اپنے محبوب کے ساتھ کیا طریقہ ہوتا ہے اور غلاموں کو مولیٰ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع