30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے اختیار عام دیا اور ہم سے خطام دنیا مانگنے بیٹھا،پیز زن اسرائیلیہ کی طرح جنت نہ صرف جنت بلکہ جنت میں اعلی سے اعلی درجہ مانگتا تو ہم تو زبان دے ہی چکے تھے اور سب کچھ ہمارے ہاتھ میں ہے ، وہی اسے عطا فرمادیتے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم،
رابعاً: ان بڑی بی پر اللہ عزوجل کی بے شمار رحمتیں بھلا انہوں نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی خدائی کا رخانہ کا مختار جا ن کر جنت اور جنت میں بھی ایسے اعلی درجے عطا کر دینے پر قادرمان کر شرک کیا تو… موسی کلیم اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کو کیا ہوا کہ بآں شان غضب و جلال اس شرک پر انکار نہیں فرماتے اس کے سوال پر کیوں نہیں کہتے کہ میں نے جو اقرار کیا تھا تو ان چیزوں کا جو اپنے اختیار کی ہوں، بھلا جنت اور جنت کا بھی ایسا درجہ یہ خدا کے گھر کے معاملے ہیں، ان میں میرا کیا اختیار، تو نے نہیں سنا کہ وہابیہ کے امام شہید اپنے قرآن جدید نام کے تقویۃ الایمان اور حقیقت کے کلمات کفر و کفران میں فرمائیں گے، کہ انبیاء میں اس بات کی کچھ بڑائی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو علام میں تصرف کی کچھ قدرت دی ہو، میں تو میں مجھ سے اور تمام جہان سے افضل ، محمد رسول اللہ خاتم المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، کی نسبت ان کی وحی باطنی میں اترے گا، کہ جس کا نام محمد ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں ، خود انہیں کے نا م سے بیان کیا جائے گا کہ ’’میری قدرت کا حال تو یہ ہے کہ اپنی جان تک کے بھی نفع نقصان کا مالک نہیں ، تو دوسرے کا تو کیا سکوں، ‘‘۔ نیز کہا جائے گا: ’’پیغمبر نے سب کو اپنی بیٹی تک کو کھول کر سنا دیاکہ قرابت کا حق ادا کرنا اسی چیز میں ہو سکتا ہے کہ اپنے اختیار کی ہو ،سو یہ میرا حال موجود ہے اس میں مجھ کو کچھ بخل نہیں اور اللہ کے ہاں کا معاملہ میرے اختیار سے باہر وہاں میں کسی کی حمایت نہیں کر سکتا اور کسی کا وکیل نہیں بن سکتا، سو وہاں کا معاملہ ہر کوئی اپنا اپنا درست اور دوزخ سے بچنے کی ہر کوئی تدبیر کرے، بڑی بی کیا تم سٹھ گئی ہو ،دیکھو تقویۃ الایمان کیا کہہ رہی ہے کہ رسول بھی کون محمد سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور معاملہ بھی کس کا خود ان کے جگر پارے کا اور وہ بھی
کتنا کہ دوزخ سے بچا لینا اس کا تو انہیں خود اپنی صاحبزادی کے لئے کچھ اختیا ر نہیں وہ اللہ کے یہاں کچھ کام نہیں آسکتے توکہاں وہ اور کہاں میں کہاں ان کی صاحبزادی اور کہاں تم، کہاں صرف دوزخ سے نجات اور کہاں جنت اور جنت کا بھی ایسا اعلی درجہ بخش دینا بھلا بڑی بی تم مجھے خدا بنا رہی ہو، پہلے تمہارے لئے کچھ امید بھی ہو سکتی تھی اب تو شرک کر کے تم نے جنت اپنے اوپر حرام کر لی۔ افسوس کہ موسی کلیم اللہ علیہ الصلوۃ والتسلیم نے کچھ نہ فرمایا اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع