30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کچھ آپ سے مانگوں آپ مجھے عطافرمادیں ،فرمایا : تیری عرض قبول ہے ،پیرزن نے عرض کی : تو میں حضور سے یہ مانگتی ہوں کہ جنت میں آہکے ساتھ ہوں ،اس درجہ میں جس میں آپ ہونگے ، حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسام نے فرمایا : جنت مانگ لے یعنی تجھے یہ ہی کافی ہے ،اتنا بڑا سوال نہ کر ، پیر زن نے کہا : خدا کی قسم ! میں نہ مانو ںگی مگر یہ ہی کہ آپ کے ساتھ ہوں ۔
حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اس سے یہ ہی رد وبدل کرتے رہے ،اللہ عزوجل نے وحی بھیجی ،موسی ! وہ جو مانگ رہی ہے تم اسے وہی عطا کردو کہ اس میں تمہارا کچھ نقصان نہیں موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے جنت میں اپنی رفاقت عطافرمادی ،اس نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی قبر بتادی ،موسی علیہ الصلوۃ والسلام نعش مبارک کو ساتھ لیکر دریا سے عبور فرماگئے ۔
{۲}امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اقول و باللہ التوفیق :۔بحمدہ تعالیٰ اس حدیث کا ایک ایک حرف جان وہابی پر کوکب شہابی ہے ۔
اولاً : حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اعرابی سے ارشاد کہ جو جی میں آئے مانگ ، حدیث ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تو اطلاق ہی تھا جس سے علمائے کرام نے عموم مستفاد کیا ، یہاں صراحۃ خود ارشاد اقدس میں عموم موجود کہ جو دل میں آئے مانگ لے ، ہم سب کچھ عطا فرمانے کا اختیار رکھتے ہیں ۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم و بارک علیہ و علی آلہ قدر رجودہ و نوالہ ونعمۃ و افضالہ ۔
ثانیاًٍ : یہ ارشاد سن کر مولیٰ علی وغیرہ صحابہ کرام حاضرین رضی اللہ تعالی عنہم کا غبطہ کہ کاش یہ عام انعام کا ارشاد اکرام ہمیں نصیب ہوتا ،حضور تو اسے اختیار عطا فرما ہی چکے اب یہ
حضور سے جنت مانگے گا ، معلوم ہوا کہ بحمدہ تعالی صحابہ کرام کا یہ ہی اعتقاد تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ہاتھ اللہ عزوجل کے تمام خزائن رحمت دنیا و آخرت کی ہر نعمت پر پہونچتا ہے ، یہاں تک کہ سب سے اعلیٰ نعمت ،یعنی جنت جسے چاہیں بخش دیں ۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
ثالثاً : خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس وقت اس اعرابی کے قصور ہمت پر تعجب کہ ہم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع