30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
استوی القبر بالارض ،فجعل موسی لایدری این ھو ، قالوا :ان کان احد منکم یعلم أین ھو ،فعجوزبنی اسرائیل لعلھا تعلم أین ھو، فارسل الیھا موسی علیہ السلام ، قال : ھل تعلمین أین قبر یوسف علیہ السلام ؟ قالت : نعم ،قال : فدلینی علیہ ، قالت : لاواللہ حتی تعطینی ماأسألک ، قال : ذاک لک ، قالت : فانی أسألک أن أکون معک فی الدرجۃ التی تکون فیھا فی الجنۃ ،قال : سلی الجنۃ ،قالت : لاواللہ أن أکون معک ،فجعل موسی یرادھا،فأوحی اللہ تبارک وتعالیٰ الیہ : أن أعطھا ذلک ، فانہ لاینقصک شیئا، فأعطاھا ودلتہ علی القبر ،فاخرج العظام وجاوز البحر ‘‘۔
امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جب کوئی شخص کچھ سوال کرتا اگر حضور کو منظور ہوتا ’نعم ، فرماتے یعنی اچھا ،اور منظور نہ ہوتا تو خاموش رہتے کسی چیز کو ’لا، یعنی نہ نہیں فرماتے ،ایک روز ایک اعرابی نے حاضر ہو کر سوال کیا، حضور خاموش رہے، پھر سوال کیا، سکوت فرمایا ،پھر سوال کیا ،اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جھڑکنے کے انداز سے فرمایا : سل ماشئت یااعرابی !اے اعرابی جو تیرا جی چاہے ہم سے مانگ لے ،یہ حال دیکھ کر کہ حضور خلیفۃ اللہ الاعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمادیا ہے جو دل میں آئے مانگ لے ، ہمیں اس اعرابی پر رشک آیا ،ہم نے اپنے جی میں کہا اب یہ جنت مانگے گا ،اعرابی نے کہا تو کیا کہا ؟ میں حضور سے سواری کا ایک اونٹ مانگتا ہوں ، فرمایا: عطاہوا ، عرض کی : حضور سے زاد راہ مانگتا ہوں ،فرمایا: عطاہوا ۔ ہمیں ان سوالوں پر تعجب آیا سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کتنا فرق ہے اس اعرابی کی مانگ اوربنی اسرائیل کی ایک پیر زن کے سوال میں ، پھر حضور نے اسکا ذکر ارشاد فرمایا : کہ جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ
والسلام کو دریا اتر نے کا حکم ہوا ،کنار دریا تک پہونچے ،سواری کے جانوروں کے منہ اللہ عزوجل نے پھیر دیئے کہ خود بخود واپس پلٹ آئے ،موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی : الہی !یہ کیا حا ل ہے ؟ارشاد ہواتم قبر یوسف کے پاس ہو، ان کا جسم مبارک اپنے ساتھ لے لو،موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو قبر کا پتہ معلوم نہ تھا ،فرمایا : اگر تم میں کوئی جانتا ہو تو شاید بنی اسرئیل کی پیرزن کو معلوم ہو ،اس کے پاس آد می بھیجا کہ تجھے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی قبر معلوم ہے ؟ کہا: ہاں ،فرمایا : تو مجھے بتادے عرض کی : خدا کی قسم ! میں نہ بتاؤنگی یہاں تک کہ میں جو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع